کابل میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے دوران قبرستانوں کو بھی مسمار کیا گیا، ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بڑے پیمانے پر جاری تعمیراتی منصوبوں کے باعث گھروں، دکانوں حتیٰ کہ قبرستانوں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مگر حکام اسے شہر کی جدید کاری کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، 25 سالہ سید مرتضیٰ سدر کا گھر، جو ان کے خاندانی کاروبار یعنی حجام کی دکان اور حمام کے اوپر واقع تھا، اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر کو گرانے میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ہمارا گھر تھا اور اب میں اسے اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کر رہا ہوں۔ یہ ہمارے لیے بہت مشکل ہوگا۔’

دو ماہ قبل بلدیاتی حکام نے علاقے کے رہائشیوں اور کاروباری افراد کو آگاہ کیا تھا کہ سڑک کو کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت ان کی جائیدادیں حاصل کی جائیں گی۔ ابتدا میں لوگوں نے اس بات پر یقین نہیں کیا، مگر بعد میں مسماری کے عمل کا آغاز ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ دراصل اُن ترقیاتی سکیموں کا حصہ ہے جو برسوں پہلے بنائی گئی تھیں، تاہم بدعنوانی، بیوروکریسی اور سکیورٹی مسائل کے باعث ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان منصوبوں کو دوبارہ شروع کیا گیا۔

بلدیہ کے حکام کے مطابق، گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں تقریبا 450 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ 11 ہزار سے زائد جائیدادیں حاصل کی گئی ہیں۔ رواں سال مزید 233 منصوبوں کے لیے 1.9 ارب افغانی مختص کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو تین ماہ پہلے نوٹس دیا جاتا ہے اور معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے، جس کی مد میں گزشتہ ایک سال میں 1.2 ارب افغانی تقسیم کیے گئے۔

تاہم متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس زیادہ مزاحمت کا اختیار نہیں ہے۔ سید مرتضیٰ سدر کے مطابق، ان کے کاروبار سے تقریبا 25 افراد کا روزگار وابستہ تھا اور ان کے خاندان کی پانچ شاخیں اسی آمدن پر گزارا کرتی تھیں۔ اب وہ کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں اور اپنی جمع پونجی خرچ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔ ایک بڑے فلائی اوور اور انڈر پاس منصوبے پر تقریبا 500 مزدور کام کر رہے ہیں، جو ایک ایسے ملک میں اہم ہے جہاں غربت عام ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعمیرات کے اس عمل میں قبرستان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کابل کے ایک علاقے میں تقریبا 200 سال پرانے قبرستان کے کچھ حصے کو بھی نئی سڑک کے لیے ہٹا دیا گیا ہے، جہاں قبروں سے باقیات نکال کر دوسری جگہ منتقل کی گئی ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں