بنگلہ دیش کے وزیرِ مملکت برائے توانائی، بجلی اور معدنی وسائل انندیا اسلام امیت نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اس وقت اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ریفائن شدہ ایندھن کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ اپریل اور مئی کے لیے ایندھن کی فراہمی پہلے ہی یقینی بنائی جا چکی ہے اور جون کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
چٹاگانگ کے علاقے پٹینگا میں قائم ملک کی واحد سرکاری آئل ریفائنری ایسٹرن ریفائنری کے دورے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ “میں پورے اعتماد اور فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بنگلہ دیش کے پاس اس وقت تاریخ کا سب سے زیادہ ریفائن شدہ ایندھن موجود ہے، جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔”
وزیرِ مملکت کے مطابق حکومت نے مستحکم سپلائی لائنز کے ذریعے اپریل اور مئی کے لیے ایندھن کی دستیابی یقینی بنا لی ہے اور اب جون کی طلب کو پورا کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسٹرن ریفائنری سالانہ تقریبا 15 لاکھ ٹن خام تیل پراسیس کرتی ہے، جو زیادہ تر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے درآمد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوری اور فروری کے لیے خام تیل کی کھیپ وقت پر پہنچ گئی تھی، تاہم 28 فروری کو شروع ہونے والے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث مارچ اور اپریل کی سپلائی متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریفائنری مکمل استعداد پر کام نہ کرے تو حکومت نے پہلے ہی ریفائن شدہ ایندھن کی درآمد بڑھا دی ہے تاکہ فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
انندا اسلام امیت نے بتایا کہ فیول پاس کے نام سے ایک پائلٹ منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد پٹرول پمپس پر قطاروں کو کم کرنا ہے، جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کو بھی طلب کے مطابق منظم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات کے روز بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 15 ہزار 350 میگاواٹ رہی جبکہ پیداوار 14 ہزار 846 میگاواٹ تھی، جس سے 481 میگاواٹ کا فرق رہا۔ ان کے مطابق چٹاگانگ میں لوڈشیڈنگ صرف 35 میگاواٹ رہی۔
تاہم جب صحافیوں نے شہر میں پانچ سے چھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی شکایت کی تو وزیرِ مملکت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات مستند ہیں اور وہ جو بھی بات کرتے ہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہیں۔