ریاست کی بنیاد قانون کی عملداری پر قائم ہوتی ہے۔ جب قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جائے تو انصاف کا تصور محض ایک نظریاتی بحث بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشروں میں یہ تضاد سب سے زیادہ نچلی سطح پر نظر آتا ہے، جہاں شہری براہِ راست ریاستی اہلکاروں سے واسطہ رکھتے ہیں۔دیہی پاکستان میں پٹواری سسٹم اسی تضاد کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بظاہر ایک معمولی سرکاری اہلکار، مگر عملی طور پر زمین، ملکیت اور قانونی حیثیت جیسے بنیادی معاملات پر اس کا اثر اس قدر گہرا ہے کہ ایک عام شہری کے لیے اس کے بغیر کوئی کام کروانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ذرا ایک عام کسان کا تصور کیجیے،وہ اپنی زمین کی فرد پر بائع کا ریٹ لگوانے اور رپورٹ کروانے، یا وراثتی انتقال درج کروانے کے لیے کئی دنوں تک دفاتر کے چکر لگاتا ہے۔ ہر بار اسے یہی جواب ملتا ہے،پٹواری صاحب نہیں آئے یافائل ابھی تیار نہیں۔ آخرکار وہ ایک منشی کے ذریعے راستہ نکالتا ہے، ایک غیر اعلانیہ رقم کے بدلے وہی کام چند گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پورے نظام کی عکاسی ہے جہاں قانونی حق بھی قیمت مانگتا ہے۔خصوصاً جھنگ جیسے اضلاع میں، جہاں عدالتی فیصلے اور ضلعی احکامات واضح طور پر موجود ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ پٹواری نجی دفاتر قائم کیے بیٹھے ہیں، منشیوں کے ذریعے نظام چلا رہے ہیں، اور عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔یہاں سوال صرف کرپشن کا نہیں، بلکہ ریاستی رٹ اور سماجی انصاف کا ہے۔ جب ایک عام شہری اپنے ہی ملک میں اپنے حق کے حصول کے لیے دربدر ہو، تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک بنیادی سماجی بحران ہے۔
پاکستان میں اراضی کے معاملات لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت چلتے ہیں، جو نہایت واضح انداز میں یہ اصول متعین کرتا ہے کہ پٹواری ایک پبلک سرونٹ ہے، اس کی حیثیت کسی خودمختار فریق کی نہیں بلکہ ریاستی نمائندے کی ہے؛ اس لیے اس کا دفتر صرف سرکاری پٹوار خانہ تک محدود ہونا چاہیے اور اس کے پاس موجود تمام ریکارڈ عوامی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی قانونی مؤقف کو عدلیہ نے بھی بارہا مضبوط کیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے PLD 2013 SC 255 میں شفافیت اور عوامی رسائی کو بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریاستی ریکارڈ تک رسائی شہری کا حق ہے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے 2016 CLC 1374 (Lahore) میں یہ اصول طے کیا کہ ریونیو ریکارڈ تک رسائی کو محدود کرنا قانون کے منافی ہے۔ ان واضح قانونی اور عدالتی ہدایات کی روشنی میں یہ بات کسی ابہام کی محتاج نہیں رہتی کہ پٹواری کا نجی دفتر قائم کرنا یا منشیوں کے ذریعے سرکاری امور چلانا صریحاً غیر قانونی عمل ہے۔ مسئلہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس کے نفاذ کی کمزوری ہے۔ وقت کے ساتھ پٹواری نے ایک ایسا غیر رسمی نظام تشکیل دے لیا ہے جس میں سرکاری امور نجی دفاتر میں انجام پاتے ہیں، غیر تحریری فیس ایک معمول بن چکی ہے، اور شہری کو دانستہ تاخیر کا شکار بنایا جاتا ہے تاکہ وہ بالآخرآسان راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اس پورے عمل میں قانون اپنی اصل روح کھو بیٹھتا ہے اور شہری ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں اپنے جائز حق کے حصول کے لیے بھی اسے قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔یوں انصاف ایک اصول نہیں بلکہ ایک خرید و فروخت کی شے بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ تصور کرنا کہ پٹواری سسٹم کی تمام خرابیوں کی جڑ صرف ایک فرد ہے، دراصل مسئلے کی اصل نوعیت کو سادہ بنا کر پیش کرنا ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور ادارہ جاتی ہے۔ ریونیو نظام میں تحصیلدار اور دیگر افسران نہ صرف نگرانی کے ذمہ دار ہوتے ہیں بلکہ قانونی طور پر ان پر یہ لازم ہے کہ وہ ماتحت عملے کی کارکردگی، شفافیت اور عوامی شکایات کا مؤثر ازالہ یقینی بنائیں۔ مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ متعدد سرویز اور ماہرینِ قانون کی آراء کے مطابق عوامی شکایات کا ایک بڑا حصہ یا تو ابتدائی سطح پر ہی دبا دیا جاتا ہے یا طویل تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ شہری تھک ہار کر غیر رسمی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اعداد و شمار اس خاموشی کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مختلف قانونی و تحقیقی اندازوں کے مطابق پاکستان میں زیرِ التوا دیوانی مقدمات میں سے تقریباً 50 سے 60 فیصد اراضی تنازعات سے متعلق ہیں، جبکہ ان میں ایک بڑی وجہ ریونیو ریکارڈ کی غلطی، تاخیر یا جان بوجھ کر کی گئی رکاوٹیں بتائی جاتی ہیں۔ مزید برآں، اینٹی کرپشن اداروں کے پاس آنے والی شکایات میں بھی ایک قابلِ ذکر حصہ نچلی سطح کی ریونیو انتظامیہ سے متعلق ہوتا ہے، مگر ان میں سے بہت کم کیسز منطقی انجام تک پہنچ پاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ محکمانہ احتساب کا کمزور ہونا اور افسرانِ بالا کی عدم دلچسپی یا بعض اوقات خاموش مفاہمت ہے، جو ایک غیر رسمی نظام کو پنپنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔یوں ایک ایسا ماحول تشکیل پاتا ہے جہاں قانون موجود ہونے کے باوجود اس کی عملداری مفقود ہو جاتی ہے۔
حکومت کی جانب سے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے قیام کو بلاشبہ ایک اہم اصلاحی قدم قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور فرد کے اجرا میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف شفافیت میں اضافہ کیا بلکہ شہریوں کو کسی حد تک براہِ راست رسائی بھی فراہم کی۔ تاہم اگر اس اصلاح کو زمینی سطح پر پرکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ پیش رفت ابھی تک نظام کی جڑ تک نہیں پہنچ سکی۔ انتقال (Mutation) اور گرداوری جیسے بنیادی اور حساس مراحل بدستور پٹواری کے کنٹرول میں ہیں، جہاں انسانی صوابدید اور غیر رسمی اثر و رسوخ کا عمل دخل برقرار ہے۔ مزید برآں، دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل نظام کی مکمل رسائی اور مؤثر نفاذ نہ ہونے کے باعث شہری اب بھی روایتی پٹوار کلچر پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں پرانا نظام اپنی جڑیں مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے۔یہ صورتحال نہ صرف انصاف کی بروقت فراہمی کو متاثر کرتی ہے بلکہ سرمایہ کاری، زرعی ترقی اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو بھی سست کر دیتی ہے، کیونکہ زمین کے غیر واضح یا متنازعہ ریکارڈ کے ساتھ کوئی بھی معیشت مستحکم بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔اگر واقعی اراضی نظام میں اصلاح کو دیرپا اور مؤثر بنانا مقصود ہے تو اسے محض انتظامی ہدایات یا جزوی ڈیجیٹل اقدامات تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ ایک جامع اور ہمہ گیر نظامی تبدیلی ناگزیر ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں، سب سے پہلی اور بنیادی ضرورت مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ اس میں صرف فرد کے اجرا نہیں بلکہ انتقال (Mutation) اور گرداوری جیسے حساس مراحل بھی مکمل طور پر آن لائن اور خودکار نظام کے تحت ہونے چاہییں، تاکہ انسانی صوابدید اور غیر رسمی اثر و رسوخ کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام کی ساکھ اور عملداری کو مضبوط بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور دیگر عدالتی اداروں کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے ایک مستقل اور خودمختار مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے، کیونکہ موجودہ حالات میں فیصلے تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد اکثر تاخیر یا غیر مؤثر نگرانی کی وجہ سے کمزور رہ جاتا ہے۔ اسی طرح انتظامی سطح پر تحصیلدار اور پٹواری دونوں کو یکساں طور پر قانونی و پیشہ ورانہ جوابدہی کے دائرے میں لانا ضروری ہیں، کیونکہ زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اختیارات کی نچلی سطح پر مرکزیت اور نگرانی کی کمزوری ہی کرپشن اور غیر رسمی نظام کو تقویت دیتی ہے۔
پٹواری سسٹم محض ایک انتظامی خرابی نہیں بلکہ دراصل ریاستی قانون اور غیر رسمی مقامی طاقت کے درمیان جاری ایک مسلسل کشمکش کی علامت ہے۔ جب قانون موجود ہو، عدالتی فیصلے بھی صادر ہو چکے ہوں، اور انتظامی نوٹیفیکیشنز بھی جاری ہوں مگر ان سب کے باوجود عملدرآمد کمزور رہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اختیار نچلی سطح پر موجود فرد کے ہاتھ میں مرتکز ہو چکا ہے، اور وہ عملی طور پر خود کو ہی قانون کا نمائندہ سمجھنے لگتا ہے۔اس تناظر میں جھنگ ہو یا ملک کا کوئی اور حصہ، مسئلہ کسی ایک فرد یا ضلع تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ایک وسیع تر ادارہ جاتی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان اور دیگر عدالتی اداروں کے فیصلے اپنی جگہ موجود ہونے کے باوجود زمینی سطح پر مکمل نافذ نہیں ہو پاتے۔ نتیجتاً ریاست کی قانونی اتھارٹی اور عملی طاقت کے درمیان خلا بڑھتا جاتا ہے، اور اس خلا میں غیر رسمی اثر و رسوخ، تاخیر اور غیر شفاف طریقہ کار اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔