امریکا سنجیدہ نہیں لگ رہا، مذاکرات کے نئے دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ

ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مسلسل ایران پر الزامات عائد کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘امریکی حکام ہمیشہ ہم پر الزام لگاتے ہیں، ان سے سچ بولنے کی توقع نہیں کی جا سکتی، اور ایسا لگتا ہے کہ امریکہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔’

انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے پیش کیا گیا دس نکاتی منصوبہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں زیرِ غور آیا تھا، تاہم امریکہ نے اس عمل کے دوران بھی خلاف ورزیاں کیں۔ ترجمان کے مطابق، آبنائے ہرمز امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے محفوظ تھی، لیکن بعد میں امریکہ نے بحری ناکہ بندی مسلط کر کے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔

ایرانی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے جنگ بندی کے آغاز سے ہی اس کی خلاف ورزی کی، ایرانی جہاز پر حملہ کیا اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس سے بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پہلے بھی مذاکرات کے دوران حملے کر چکا ہے اور ایرانی عوام کو نقصان پہنچا چکا ہے، جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا اور اگر امریکہ یا اسرائیل نے دوبارہ کسی جارحیت کا آغاز کیا تو ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھ رہا، اور اس طرزِ عمل کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ایران کا امریکہ کے ساتھ کسی نئی بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان 11 اور 12 اپریل اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا جو بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوا۔ اب اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی مذاکرات کار پیر کی شام پاکستان پہنچ جائیں گے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں