روس میں ایرانی سفیر کاظم جلالی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف اپنے حملوں میں ناکام رہے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کی میز پر بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔
ایک روسی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ چند دنوں میں ایران کو اپنے کنٹرول لے لیں گے اور حکومت تبدیل کر دیں گے، لیکن حقیقت میں وہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کے بقول، ‘انہوں نے جو اہداف مقرر کیے تھے، ان میں سے ایک بھی حاصل نہیں کر سکے۔’
کاظم جلالی نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران امریکی مطالبات میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ابتدا میں مقصد حکومت کی تبدیلی تھا، مگر بعد میں وہ صرف آبنائے ہرمز کھلوانے تک محدود ہو گئے، جو واضح ناکامی ہے۔ انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کے اعلان کو بھی بے معنی قرار دیا اور کہا کہ ایران کے پاس آئندہ اقدامات کے لیے مضبوط عزم موجود ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنگ نے ایران کو کمزور کرنے کے بجائے اس کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ پہلے ایران کے دس نکاتی منصوبے پر رضامند ہوا تھا، لیکن بعد میں اس سے پیچھے ہٹ گیا۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ‘جو کچھ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکے، وہ مذاکرات کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر پائیں گے’، اور زور دیا کہ حقیقی مذاکرات وہی ہوتے ہیں جن میں دونوں فریق ایک منصفانہ اور باہمی فائدے پر مبنی حل تک پہنچیں۔