آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا بل پیش 

آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل پیش کیا گیا ہے۔ اس بل میں خلاف ورزی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 

سخت جرمانے کی شق

مجوزہ قانون کے مطابق، اگر سوشل میڈیا کمپنیاں 16 سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کرتیں، تو انہیں 32.5 ملین امریکی ڈالرز تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ 

یہ پابندی ٹک ٹاک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام، اور اسنیپ چیٹ سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگی۔ تاہم، ممنوعہ سروسز کی حتمی فہرست اب تک جاری نہیں کی گئی ہے۔ 

بل کی حمایت

اس بل کو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی حمایت حاصل ہے۔ منظوری کی صورت میں یہ قانون ایک سال کے اندر نافذ العمل ہوگا۔ 

آسٹریلیا کی حکومت نے اس قانون کو دنیا کی اولین سوشل میڈیا اصلاحات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد نوجوانوں کو تحفظ فراہم کرنا اور والدین کو یقین دلانا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔    یہ اقدام دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات پر قابو پانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں