گرمیوں میں کیسا لباس پہننا چاہیے؟

گرمی کا موسم آتے ہی ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹھنڈا، آرام دہ اور تازہ دم محسوس کرے۔ ایسے میں اگر لباس کا انتخاب درست نہ ہو تو یہ موسم مزید اذیت ناک بن سکتا ہے۔ کچھ ایسے کپڑے اور مواد ہوتے ہیں جو گرمی کو جذب کرتے ہیں، جلد کو سانس لینے نہیں دیتے یا پسینے کو روک لیتے ہیں، جس سے جسمانی بے آرامی بڑھ جاتی ہے۔

گرمیوں میں سب سے پہلے گہرے رنگوں والے کپڑوں سے اجتناب کریں۔ سیاہ، نیلا یا گہرا سرخ رنگ سورج کی شعاعوں کو جذب کرتا ہے، جس سے جسم میں حرارت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس ہلکے رنگ جیسے سفید، آسمانی، ہلکا خاکی یا سرمئی سورج کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں، جس سے جسم نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔

اسی طرح مصنوعی فیبرک جیسے پولیسٹر یا نائلون سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ پولیسٹر گرمی کو جذب کرتا ہے اور اس میں ہوا کی آمدورفت کا راستہ بہت محدود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے پسینہ خشک نہیں ہو پاتا اور جلد پر جلن یا خارش بھی ہو سکتی ہے۔ نائلون کپڑے جسم سے چپک جاتے ہیں، جو نہ صرف بے آرامی کا سبب بنتے ہیں بلکہ جلدی امراض کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں قدرتی کپڑے جیسے سوتی (کپاس) یا بانس کے فائبر سے بنے کپڑے زیادہ مناسب ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف نرم اور ہلکے ہوتے ہیں بلکہ نمی کو جذب کر کے جلد کو سانس لینے کا موقع بھی دیتے ہیں۔

تنگ یا جسم سے چپکتے ہوئے کپڑے بھی گرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ جسم کے گرد ہوا کی گردش کو روک دیتے ہیں، جس سے نہ صرف گرمی کا احساس بڑھتا ہے بلکہ جلد پر دھبے یا جلن جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ گرمیوں میں ڈھیلے، کھلے کپڑوں جیسے شلوار قمیص، کھلے پائنچوں والی پینٹس یا میکسی ڈریس وغیرہ پہننا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

آخری بات یہ کہ کثیر پرتوں والے لباس بھی گرمی کو اندر ہی اندر قید کر لیتے ہیں، خاص طور پر اگر آپ جینز جیسے موٹے کپڑے پہنے ہوئے ہوں۔ ایسے میں سنگل پرتوں والے، ہلکے اور ہوادار لباس آپ کو نہ صرف گرمی سے بچاتے ہیں بلکہ زیادہ چاق و چوبند اور تازہ رکھتے ہیں۔

گرمیوں میں لباس کا انتخاب محض فیشن نہیں بلکہ صحت کا معاملہ بھی ہوتا ہے، اس لیے ہوشیاری سے کپڑے چنیں اور اس موسم کو آرام دہ بنائیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں