’شعلے‘‘انڈین فلم انڈسٹری کی شہرہ آفاق اور بہت مقبول فلم سمجھی جاتی ہے۔ یہ پانچ سال تک مسلسل سینمائوں میں لگی رہی اور ہر شو میں ہائوس فل ہوتا۔ اس ریکارڈ کو بعد میں دل والے دلہنیالے جائیں گے نے توڑا، مگر بعض فلم ناقدین کے مطابق جو مقبولیت شعلے کو ملی، وہ کسی اور کو نہیں مل سکی۔
شعلے کے کئی سپرسٹار تھے، مگر ہیروئن ایک ہی تھی جو اپنی دلکشی، جاندار پرفارمنس اور خوبصورت رقص کی بدولت چھا گئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی فلم تھی جس نے ہیمامالنی کی اداکاری کی صلاحیت بلکہ اس کی ناقابل تسخیرروح کو بھی خوب آزمایا۔فلم میں ہیما مالنی نے بغیر رکے ہوئے مسلسل بولنے والی ایک دوشیزہ کا کردارکیا جس کے لیے اسے تین تین صفحے کے مکالمے یاد کرنا پڑے اوروہ جب بھی سکرین پر آئی اس نے خود کو ایک ہوشیا ر وطرار ٹانگہ والی ثابت کیا اور تعاقب کے کئی خطرناک مناظر کے علاوہ کانچ پربھی رقص کا مظاہرہ کیا۔ہیمانے ایک ایسی فلم میں وہ سب کچھ کرکے دکھایا جو کہ اس کے کیرئیر کی بلاشبہ سب سے بڑی فلم تھی۔
شعلے ایک زبردست تجربہ
’’یہ ایک زبردست تجربہ تھا،‘‘ ہیما بتاتی ہیں، ’’میں اس زمانے میںڈائریکٹر رمیش جی کی عادی ہوگئی تھی۔وہ مجھے تین تین صفحوں پر لکھے ہوئے مکالمے دیتے جنہیں میں نے سانس لیے بغیر بولنا ہوتا تھا۔یہ آسان نہیں تھا۔مجھے ایکشن کے وہ مناظر بھی اچھی طرح یاد ہیں جو رمیش جی نے میرے ساتھ شوٹ کیے۔یہ بہت خطرناک مناظر تھے۔ایک نوآموز کوچوان کے طورپر ٹانگہ چلانا بہت مشکل تھا لیکن کسی طرح میں نے یہ کرلیا۔’’شعلے‘‘کئی اعتبار سے میرے لیے ایک سپیشل فلم تھی۔‘‘
بذات خود فلم کی طرح ’’شعلے‘‘کی تیاری بھی کسی رزمیہ سے کم نہیں جس میں طرح طرح کے اتنے واقعات پیش آئے کہ ان واقعات سے پوری ایک کتاب بن سکتی ہے۔سلیم جاوید کی جوڑی نے اس فلم کے لیے کئی مناظر حقیقی زندگی سے حاصل کیے۔مثال کے طور وہ سین جس میں جے بسنتی کی موسی (خالہ)کے گھر ویرو کا رشتہ لے کر جاتا ہے براہ راست فلم کے لکھاریوں کی زندگی سے لیا گیا۔خیال کیا جاتا ہے کہ جاویداختر اداکارہ ہنی ایرانی کے عشق میں گرفتار تھے اور اس سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن نہ تو ہنی ایرانی کی ماں اور نہ ہی جاوید اختر کے دوست اور شعلے کے ساتھی فلم رائٹر سلیم خان (سلمان خان کے والد) اس رشتے کے حق میں تھے۔لیکن ہچکچاہٹ کے ساتھ سلیم رشتہ لے کر جانے پر تیار ہوگئے اور جاوید کی خوب تعریفیں کیں۔’’شعلے‘‘ میں ر شتہ لے کرجانے کا منظر بھی خوب مقبول ہوا۔
ٹانگے والا سین
دلچسپی کی بات ہے کہ فلم میں جتنے بھی خطرناک مناظر تھے، ان میں سے کئی ہیمامالنی کے حصے میں آئے۔ان میں سب سے خطرناک سین تعاقب کا وہ منظر تھا جس میں ہیمامالنی نے پوری رفتار سے ٹانگہ دوڑانا تھا کیونکہ ڈاکو اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔اس سین کے بہت سے مناظر ٹانگے کے ساتھ کیمرہ لگاکر فلم بند کیے گئے۔کچھ شاٹس کے لیے کیمرے ٹانگے کے اندرہیمامالنی کے قریب لگائے گئے تاہم خطرے کوکم سے کم کرنے کے لیے گھوڑے نکال لیے گئے۔طویل شاٹس اوروہ سین جس میں ٹانگہ الٹ جاتا ہے، اس میں ڈبل کو استعمال کیا گیا۔درحقیقت اس فلم کے آخری شاٹ میں ہیمامالنی کا سٹنٹ کرنے والی خاتون اداکارہ کا پائوں پھسل گیا اوروہ ٹانگے کے سامنے گرپڑی۔پہیہ اس کے اوپر چڑھ گیا اور وہ بے ہوش ہوگئی۔
جب تک ہے جان
ہیمامالنی کی طرف سے ایک اور شاندار کارکردگی اس کے کلائمکس سے پہلے کے منظرکے گانے’’جب تک ہے جان‘‘ کی عکس بندی کے موقع پر تھی۔اس میں بسنتی کو ڈاکو گبر کے ڈیرے پر ڈاکوئوں کے گروہ کے سامنے رقص کرنے پر مجبور کیاجاتا ہے۔ویروکے سرپر بندوق کی نال رکھی جاتی ہے جبکہ اس کے ہاتھ اور پائوں بندھے ہوتے ہیں۔گبرکہتا ہے۔’’جب تک تیرے پیرچلیں گے، اس کی سانس چلے گی۔تیرے پیررکے تو یہ بندوق چلے گی۔‘‘منجھی ہوئی رقاصہ کے طورپر ہیماکے لیے اس رقص کے سٹیپ بہت آسان تھے لیکن سٹیج نہیں۔جدوجہد کو حقیقی دکھانے کے لیے رمیش اس گانے کو گرمیوں میں جلتے ہوئے سورج تلے عکس بند کرنا چاہتے تھے۔اس کی لوکیشن بنگلور کے قریب تھی۔
کانچ پر رقص
’’اس کو جنوری میں شوٹ کیوں نہیں کیاجاتا؟‘‘ہیمانے ان سے پوچھا۔
’’کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ گرمی کی وجہ سے تم پر تشدد کے آثار حقیقی دکھائی دیں۔‘‘ڈائریکٹر کا جواب تھا۔
گانے کی شوٹنگ مئی میں کی گئی تاہم بنگلور کا موسم بہت ناقابل اعتبار ہے جس نے ان کے مسائل میں اضافہ ہی کیا۔دن کے وقت شدید گرمی پڑتی جبکہ رات ہوتی تو بارش ہونے لگتی۔دن کے وقت پتھر کی چٹانیں بہت نمی اور پھسلن والی ہوتیں۔شوٹنگ دن کے وسط میں ہی ہوسکتی تھی جب پروڈکشن یونٹ پنکھوں اور بلورکے ذریعے چٹانوں کو خشک کرنے کی کوشش کرتا۔جس وقت یونٹ شوٹنگ کے لیے تیار ہوتا تو پتھر سخت گرم ہوچکے ہوتے۔چنانچہ ہیما کے پیروں کے ساتھ پیڈز لگادیے گئے تاہم ہیما نے ان کے ساتھ رقص کرنے سے انکارکردیا۔رمیش کے بقول وہ ہیما کی تکلیف کم کرنے کے لیے ایسا کررہے تھے تاہم ہیماان کے ساتھ رقص کے لیے تیار نہ تھی۔
ہر شاٹ کے بعد ہیما کے سپاٹ بوائے آگے بڑھتے اور اس کے جلتے ہوئے پیروں پر پانی ڈالتے۔اس سے اسے عارضی طورپر کچھ سکون ملتا تاہم یہ کافی نہیں تھا۔جب گانے کا نصف ہوتاہے تو ڈاکواس کے سامنے کانچ کی بوتلیں پھینک کر توڑنے لگتے ہیں۔اب ہیمامالنی کو ٹوٹے ہوئے کانچ پرناچنا ہوتا ہے۔اگرچہ سین میں زیادہ تر پلاسٹک استعمال کیا گیا لیکن پھینکی گئی بوتلیں اصلی کانچ کی ہی تھیں جس کے کچھ ٹکڑے تمام تر کوشش کے باوجود ہیما کے پیروں میں چبھ گئے۔اگر کوئی اور ہوتا تو اس موقع پر رقص کرنے سے انکارکردیتا تاہم ہیمانے رقص جاری رکھا اور آخری شاٹ مکمل کرایا۔
بسنتی کا کردار
رمیش سپی ’’شعلے‘‘کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’ہیما جی کی یادداشت بہت اچھی تھی۔وہ تین سو چالیس الفاظ پر مبنی مکالمے کو ایک ہی ہلے میں ادا کردیتی۔تاہم وہ ایک ہی ٹیک میں مناسب لہجہ برقرار نہیں رکھ سکتی تھی چنانچہ یہ کام ڈبنگ میں کیاجاتا۔میرے خیال میں ہیما جی کا ٹانگے والی کاکردار ہندی فلم انڈسٹری میں بہت انقلابی نوعیت کی چیز تھا۔درحقیقت وہ ڈائیلاگ جس میں بسنتی ویرو کو کہتی ہے، ’’اگر دھنو گھوڑی ہوکر ٹانگہ کھینچ سکتی ہے تو بسنتی لڑکی ہوکر ٹانگہ کیوں نہیں چلاسکتی؟‘‘ نسائی ازم کے حوالے سے ایک طاقتور جملہ تھا جو کہ فلم میں استعمال کیا گیا۔وہ نہ صرف فلم کو ایک مزاحیہ رخ دے رہی تھی بلکہ عورت کی طاقت کی نمائندگی بھی کررہی تھی۔اس میں ایک ایسا ایکشن کا لمحہ بھی تھا جس میں ہیماجی نے بڑی زبردست مہارت دکھائی۔ہیماجی نے بسنتی کے کردار میں کمال کردکھایا تھا۔‘‘ (جاری ہے)