بھارتی لیجنڈ گلوکارہ آشا بھوسلے کے 10 بہترین گانے کون سے ہیں؟

بھارتی لیجنڈ گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال کے بعد ان کے شاندار اور متنوع میوزیکل کیریئر کو ہر کوئی یاد کر رہا ہے۔ سات دہائیوں پر محیط اپنے سفر میں انہوں نے بارہ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے اور بالی وڈ موسیقی کو نئی پہچان دی۔

ان کی آواز کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف گلوکاری تک محدود نہیں تھیں بلکہ اداکاری کا عنصر بھی اپنی آواز میں شامل کر لیتی تھیں، جس سے ہر گانا ایک مکمل کہانی بن جاتا تھا۔

آشا بھوسلے نے بچپن میں ہی فلم میز بال کے گانے “چلا چلا نو بالا” سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جہاں ان کی آواز میں معصومیت اور جذبات کی جھلک نمایاں تھی۔

1950 کی دہائی میں انہوں نے موسیقاروں کے ساتھ مل کر کئی یادگار گانے دیے، جن میں فلم ہاوڑہ برج کا مشہور گانا “آئیے مہرباں” شامل ہے، جس میں ان کی دلکش اور نرم آواز نے سننے والوں کو مسحور کر دیا۔

1968 میں فلم قسمت کا گانا “آؤ حضور تم کو” ان کے مقبول ترین گانوں میں شامل ہوا، جس میں انہوں نے اپنی آواز کے مختلف انداز اور وسعت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
1970 کی دہائی میں انہوں نے نئے تجربات کیے، خاص طور پر موسیقار آر ڈی برمن کے ساتھ ان کی جوڑی نے کئی ہٹ گانے دیے۔ فلم ہرے راما ہرے کرشنا کا گانا “دم مارو دم” نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی بے حد مقبول ہوا اور مختلف مغربی موسیقی انداز کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی سال فلم کارواں کا گانا “پیا تو اب تو آجا” بھی خاصا متنازع مگر بے حد کامیاب رہا، جس میں ان کی آواز کے مختلف جذباتی رنگ نمایاں ہوئے۔

1973 میں فلم یادوں کی بارات کا گانا “چورا لیا ہے تم نے جو دل کو” ان کے نرم اور رومانوی انداز کی بہترین مثال بنا، جبکہ 1981 میں فلم امراؤ جان کا گانا “ان آنکھوں کی مستی” ان کی غزل گائیکی کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔

1990کی دہائی میں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی کام کیا، جس میں برطانوی گلوکار بوائے جارج کے ساتھ گانا “بو ڈاؤن مسٹر” شامل ہے، جہاں انہوں نے جدید موسیقی انداز میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔

2001 میں فلم لگان کا گانا “رادھا کیسے نہ جلے”، جسے انہوں نے اے آر رحمان کی دھن پر گایا، ان کے دیرینہ کیریئر کا ایک اور شاہکار ثابت ہوا۔
اسی طرح 2002 میں بین الاقوامی پراجیکٹ میں انہوں نے مائیکل سٹائپ کے ساتھ گانا “دی وے یو ڈریم” گایا، جو ان کی عالمی سطح پر مقبولیت کی واضح مثال ہے۔

آشا بھوسلے کی آواز کی خاصیت یہ تھی کہ وہ ہر دور، ہر انداز اور ہر صنف میں خود کو ڈھال لیتی تھیں۔ ان کے گانے آج بھی سننے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور آنے والی نسلیں بھی ان کے فن سے لطف اندوز ہوتی رہیں گی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں