پاکستان :اسرائیل جانے والے پاکستانی وفد کی معلومات نہیں، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان کے دفتر خارجہ کےترجمان، شفقت علی خان نے کہا ہے کہ، پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور پاکستانی شہریوں کے اسرائیل جانے سے متعلق کسی قسم کی باضابطہ معلومات موجود نہیں ہیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ، میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں سے معلوم ہوا کہ، ایک پاکستانی وفد نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے، تاہم حکومت کو اس بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ ایک شخص کی ٹویٹ کے ذریعے اس معاملے کا پتہ چلا، اور اب اس حوالے سے مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ، پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
شفقت علی خان نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ، اسرائیل کے حملے جنگ بندی کی مخالفت ہیں، اور پاکستان فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتا رہے گا۔
بھارتی قیادت کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیانات پر رد عمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ، اگر بھارتی رہنما لاکھوں کشمیریوں کے قتل عام کو ‘پرامن’ قرار دے رہے ہیں، تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ، بھارت خود مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، لیکن نئی دہلی بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت تک نہیں کر سکا۔ بھارت پورے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں مصروف ہے۔
ترجمان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ایک امریکی پوڈکاسٹ میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ، ان کے الزامات غلط اور یکطرفہ ہیں۔ مودی نے امریکی پوڈکاسٹر لیکس فریڈمین کے ساتھ گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ، پاکستان نے بھارت کی امن کی کوششوں کا دشمنی اور دھوکہ دہی سے جواب دیا ہے اور بھارت کے خلاف پراکسی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔
مودی نے مزید کہا تھا کہ، پاکستان نہ صرف بھارت ،بلکہ پوری دنیا کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے اور جہاں بھی دہشت گردی ہوتی ہے، اس کے تانے بانے کسی نہ کسی طرح پاکستان سے جڑتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ، بھارت خود دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہے اور جھوٹے بیانیے کے ذریعے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مضبوط روابط موجود ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ، دفتر خارجہ میں امریکی ناظم الامور کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات ایک روٹین سفارتی اجلاس تھا اور امریکا نے پاکستان پر کسی قسم کی سفری پابندیوں کے حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہے۔ اس معاملے پر جو کچھ کہا جا رہا ہے، وہ محض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔
افغانستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ، افغان سفارتکاروں کو وزارت خارجہ بلانا معمول کا حصہ ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے موجود ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ، پاک-افغان طورخم بارڈر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے، جبکہ پیدل آمدورفت کے لیے بھی جلد راستہ کھول دیا جائے گا۔ یہ بارڈر 15 اپریل تک کھلا رہے گا۔
افغان مہاجرین کی واپسی کے بارے میں شفقت علی خان نے کہا کہ، اس حوالے سے دی گئی 31 مارچ کی ڈیڈ لائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اور حکومت اسی شیڈول کے مطابق عمل کرے گی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ، وزیراعظم شہباز شریف اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ، مختلف سوشل میڈیا افواہوں اور الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی حقیقت جانچنے کے لیے کام کرے گی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزیدکہا کہ، پاکستان شام اور لبنان میں تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں