اورنگزیب کے مقبرے کی ممکنہ منتقلی پر ہنگامے، وکی کوشل کی فلم پر الزام

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے مقبرے کو ہٹانے سے متعلق بیان کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے، جن کی بنیادی وجہ اداکار وکی کوشل کی فلم "چھاوا” کو قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، مہاراشٹر میں جاری اورنگزیب تنازع اور ناگپور میں پیر کے روز پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے دوران، ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے کہا کہ وکی کوشل کی حالیہ فلم "چھاوا” لوگوں میں 17ویں صدی کے مغل بادشاہ کے خلاف غصے کو بڑھا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ فسادات پہلے سے منصوبہ شدہ معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، "ہجوم نے مخصوص مکانات اور اداروں کو نشانہ بنایا، جو کہ ایک بڑی سازش کا حصہ لگتا ہے۔”

بی جے پی رہنما دیویندر فڈنویس نے قانون ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ "چھاوا” فلم نے اورنگزیب کے خلاف عوامی غصے کو ہوا دی ہے، لیکن ریاست کو پرامن رکھنا ناگزیر ہے۔

ناگپور میں ہونے والے ان پرتشدد فسادات کے دوران متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، اور کئی افراد زخمی ہوئے، جن میں کم از کم 15 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، زخمی پولیس اہلکاروں میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، ایک مخصوص گروہ کی جانب سے مذہبی کتاب کو جلانے کی افواہ پھیلائی گئی تھی، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوئے۔ تاہم، بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اورنگزیب کے مقبرے کو ہٹانے کے اعلان نے عوامی جذبات کو مزید بھڑکا دیا۔

وکی کوشل کی فلم "چھاوا” مراٹھا جنگجو چھترپتی سنبھاجی مہاراج کی زندگی پر مبنی ہے، جو اورنگزیب کے دور میں ایک اہم ہندو رہنما سمجھے جاتے تھے۔ فلم میں مغل حکمرانوں، خاص طور پر اورنگزیب کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہندو قوم پرستوں میں مزید اشتعال پایا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی حکومت اور مراٹھا قوم پرستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت بھی اس تنازع کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ دوسری طرف، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ ایک منظم سازش کا حصہ ہے، جس کے ذریعے ہندو ووٹرز کو متحرک کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے، جبکہ پولیس نے مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔

یہ معاملہ نہ صرف مہاراشٹر کی سیاست بلکہ بھارت کے فرقہ وارانہ ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں