وزیراعظم پاکستان ،محمد شہباز شریف جمعرات کو کوئٹہ پہنچے، جہاں انہوں نے بلوچستان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ ان کا یہ دورہ اس پس منظر میں ہوا جب دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کے مسافروں کو یرغمال بنایا تھا اور بعد ازاں پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے تمام 33 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
سیکیورٹی حکام کےمطابق، حملے کے بعد 25 افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں، جن میں 21 یرغمالی مسافر بھی شامل تھے۔
وزیراعظم کے دورے کے دوران وہ اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے، جہاں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، وہ سیاسی رہنماؤں اور عمائدین سے ملاقات کر کے خطے میں امن و استحکام کے لیے مزید اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
گزشتہ رات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ، پاک فوج، ایئر فورس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) نے مشترکہ آپریشن کیا، جس میں تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان کے مطابق، آپریشن کے دوران انتہائی احتیاط برتی گئی، تاکہ یرغمال مسافروں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں چار ایف سی اہلکار شہید ہوئے، جن میں سے تین اہلکاروں کو دہشت گردوں نے آپریشن سے قبل شہید کیا، جبکہ ایک اہلکار آپریشن کے دوران جامِ شہادت نوش کر گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جعفر ایکسپریس آپریشن کی کامیابی پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ، یہ آپریشن انتہائی مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ،ہم معصوم شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو ہر محاذ پر شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جنگ جاری رہے گی۔