پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق

پاکستان اور ملائیشیا نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا، جس کے تحت ملائیشیا میں قید پاکستانی اپنی باقی سزا پاکستان میں پوری کر سکیں گے۔ اس معاہدے کا مقصد قیدیوں کے قانونی اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔
ذرائع کے مطابق، ملائیشین حکام نے معاہدے کا مسودہ پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کر دیا ہے، جس کے بعد جلد ہی اس پر باضابطہ دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ اس معاہدے کے بعد پاکستانی قیدیوں کو اپنے اہلخانہ سے ملنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنی سزا اپنے ملک میں کاٹ سکیں گے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت 384 پاکستانی ملائیشیا کی مختلف جیلوں میں قید ہیں، جن میں سے بیشتر قتل، جنسی جرائم، انسانی اسمگلنگ، منشیات رکھنے، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی اور دیگر الزامات میں سزائیں بھگت رہے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق، ملائیشیا میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں 1 لاکھ 25 ہزار پاکستانی روزگار کے لیے ملائیشیا گئے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 1 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
ملائیشیا میں موجود 98 فیصد پاکستانی جنرل ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر تعمیرات، مینوفیکچرنگ، پلانٹیشن اور زراعت کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستانی ہائی کمیشن کی کوششوں کے بعد ملائیشیا میں ہنر مند پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت ملائیشیا نے پاکستانی نرسوں کی بھرتی بھی شروع کر دی ہے اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کوآپریشن (OEC) کے ذریعے نرسنگ کے شعبے میں ملازمت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ، ملائیشین وزیراعظم کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت کی برآمد پر بھی اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد ہنر مند پاکستانیوں کو مزید بہتر مواقع میسر آنے کی امید ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں