پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے منگل کو کہا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے علاقائی ٹرانزٹ فریم ورک کو وسعت دینے پر بات چیت کی ہے جس میں افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے تاجکستان اور ازبکستان کو بھی شامل کیا جائے گا، تاکہ خطے میں روابط اور تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، چین، قازقستان اور کرغزستان کے درمیان موجود کواڈری لیٹرل ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (کیو ٹی ٹی اے) میں تاجکستان اور ازبکستان کی شمولیت زیر غور ہے۔
پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے وسطی ایشیائی ممالک کو اپنی بندرگاہوں سے ملانے کے لیے متبادل تجارتی راستے تلاش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور سرحدی رکاوٹیں روایتی تجارتی گزرگاہوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
محمد صادق نے افغانستان وسطی ایشیا بین الحکومتی رابطہ سیل (اے سی آئی سی سی) کے اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں علاقائی تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اجلاس میں اہم توجہ تاجکستان اور ازبکستان کو کیو ٹی ٹی اے میں شامل کرنے پر مرکوز رہی۔
یہ معاہدہ پاکستان، چین، قازقستان اور کرغزستان کے درمیان ہے اور اس کا مقصد چین کے راستے وسطی ایشیا کو پاکستان سے جوڑتے ہوئے سرحد پار تجارت کو آسان بنانا ہے۔
اجلاس میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان فضائی روابط بڑھانے اور تاجک تاجروں کے لیے ویزا سہولیات کو آسان بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گزشتہ ماہ کرغزستان سے چین کے راستے ایک تجارتی کھیپ خنجراب پاس اور سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے کراچی پہنچی تھی، جس سے وسطی ایشیائی ممالک کو ایک متبادل تجارتی راستہ میسر آیا ہے۔
پاکستان پہلے ہی خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کو بحیرہ عرب تک رسائی کی پیشکش کر چکا ہے اور خود کو ایک اہم علاقائی تجارتی راہداری کے طور پر پیش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سپلائی چینز تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان نے اپنی بندرگاہی سہولیات کو بھی جدید بنایا ہے تاکہ علاقائی ٹرانزٹ کے ذریعے بڑھنے والے تجارتی حجم کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔