معرکہ حق میں کامیابی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حیثیت مزید مضبوط ہوئی، معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پاکستانی قیادت کا پیغام

پاکستان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال بھارت کی جارحیت کے جواب میں ‘معرکۂ حق’ میں کامیابی کے بعد پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ اور سفارتی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی سفارتی کامیابیاں حاصل کیں۔

وزارتِ خارجہ میں سفارتی عملے اور غیر ملکی سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے ردعمل نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے اصولوں سے اس کی وابستگی کو دوبارہ واضح کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے گزشتہ سال ایسے اقدامات کیے جن سے خطہ تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا۔ اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی فیصلے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت دیگر دوست ممالک کا جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے 120 سے زائد وزرائے خارجہ اور عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔

دوسری جانب ‘دی بیٹل آف ٹروتھ’ نامی کتاب اور دستاویزی فلم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اب خطے میں استحکام کی علامت اور امن کا ضامن بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

اس کے علاوہ ‘معرکۂ حق’ کی یاد کے موقع پر نشر کیے گئے اپنے ٹیلی وژن پیغام میں وزیرِ دفاع نے کہا کہ معرکۂ حق صرف پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی لکیر ہے جو ہمیشہ کے لیے کھینچ دی گئی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف

انہوں نے کہا کہ اس لکیر کے دوسری جانب موجود عناصر کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ 2025 کے واقعات کے دوران پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا تھا، تاہم آئندہ کسی غلط اندازے یا غلط حساب کتاب کی صورت میں جواب زیادہ شدید اور فیصلہ کن ہوگا۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو زیادہ پذیرائی ملی جبکہ بھارت کا بیانیہ عالمی برادری کو قائل نہ کر سکا۔

گزشتہ سال 22 اپریل کو ہونے والے پہلگام حملے کے بعد بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے آپریشن ‘بنیان المرصوص’ اور پھر 10 مئی کو جنگ بندی تک کے فوجی تصادم کو ‘معرکۂ حق’ کا نام دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں