پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، جن میں حکومت نے اضافی ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کے بجائے قانونی اور انتظامی ذرائع سے محصولات اکٹھے کرنے کا انتخاب کیا ہے۔
حکومت نے بجلی پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کم کرنے کی تجویز دی، لیکن اس کے ساتھ ہی اضافی مالی سرچارج عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ آئی ایم ایف نے بجلی پر جی ایس ٹی ختم کرنے یا کم کرنے کی تجویز کی سخت مخالفت کی، لیکن حکومت کے 5 سال کے لیے 2.83 روپے فی یونٹ اضافی سرچارج کے منصوبے کو خوش آئند قرار دیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ، حکومت بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے وعدوں کے باوجود، صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے جا رہی ہے، تاکہ گردشی قرضوں کی ادائیگی کی جا سکے۔
حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ ٹیرف 26 روپے سے کم کر کے 10 روپے کرنے کے منصوبے سے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا، جس سے آف گرڈ صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔صنعتی اور کمرشل صارفین کے لیے سستی بجلی کی حکومتی تجویز کو بھی آئی ایم ایف نے مسترد کر دیا۔
حکومت نے 600 ارب روپے کے محصولات کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے اضافی ٹیکس لگانے کے بجائے دوسرے ذرائع تجویز کیے۔ حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں کمی، قانونی مقدمات کے ذریعے مضبوط ٹیکس وصولی اور ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور دیگر شعبوں میں سخت ٹیکس کے نفاذ کی تجاویز دی۔
تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس لگانے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے، لیکن آئی ایم ایف دیگر شعبوں میں ٹیکس اصلاحات پر زور دے رہا ہے۔
آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات 10 مارچ سے شروع ہوں گے۔اس دوران گورننس اصلاحات، جیسے ٹیکس ریٹرن اور سرکاری افسران کے اثاثوں کی شفافیت کے اقدامات پر بھی بات ہوگی۔صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ اور مالیاتی معاہدوں پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔
آئی ایم ایف کے موجودہ جائزے کی کامیاب تکمیل پر پاکستان کو 7 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت 1 ارب ڈالر کی دوسری قسط ملنے کی توقع ہے۔
یہ فنڈز پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کے لیے اہم ہیں، لیکن اس کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف کی سخت مالیاتی شرائط پوری کرنی ہوں گی۔