پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے۔ قدرت نے اسے وسائل، جغرافیائی اہمیت، زرخیز زمینوں، دریاؤں، پہاڑوں، معدنی ذخائر اور باصلاحیت نوجوانوں کی دولت سے نوازا ہے۔ اس ملک کے پاس ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود پاکستان آج بھی معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام، سماجی ناہمواری اور انتظامی کمزوریوں کا شکار کیوں ہے؟ معیشت کے حوالے سے کچھ مثبت اشاریے ضرور سامنے آئے ہیں۔ معاشی شرح نمو میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط کی کوششیں اور مہنگائی کی رفتار میں کمی امید کے پہلو ہیں، لیکن ان اعدادوشمار کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے کہ عام شہری کی زندگی میں معاشی بہتری ابھی پوری طرح محسوس نہیں ہو رہی۔ عالمی بینک کی اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 2018-19ء کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25ء میں تقریباً 29 فیصد ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاشی استحکام کے دعووں کے باوجود لاکھوں خاندان غربت کی لکیر سے نیچے یا اس کے قریب زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مہنگائی نے متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، ادویات، تعلیم اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کے بجٹ کو مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ملازم اپنی تنخواہ میں گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس، یوٹیلیٹی بلز، خوراک اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن مہینے کے اختتام سے پہلے ہی اس کی آمدن جواب دے جاتی ہے۔ چھوٹے کاروباری افراد ٹیکسوں، توانائی کے اخراجات اور کاروباری غیر یقینی صورت حال سے پریشان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ معاشی ترقی کا فائدہ اس وقت تک عام آدمی تک کیسے پہنچے گا جب تک اس کی آمدن اور اخراجات میں توازن پیدا نہیں ہوتا؟ معیشت کا ایک بڑا مسئلہ بے روزگاری اور روزگار کے غیر معیاری مواقع بھی ہیں۔ پاکستان کے سماجی مسائل بھی معاشی بحران سے الگ نہیں ہیں۔ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں، بلکہ یہ معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی، رہائش اور باعزت زندگی کے مواقع سے محرومی کا نام بھی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات، سرکاری تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور بنیادی شہری سہولیات آج بھی بڑے چیلنج ہیں۔ ایک غریب خاندان کے لیے بیماری پورے گھر کی معاشی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ معیاری تعلیم تک عدم رسائی ایک پوری نسل کے مستقبل کو محدود کر دیتی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں صورت حال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ محض ایک تعلیمی اعدادوشمار نہیں بلکہ قومی مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ ہم جدید دنیا میں مصنوعی ذہانت، سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کی بات کرتے ہیں، لیکن ہمارے لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ ہوگی یا انسان کو باشعور، ہنرمند اور ذمہ دار شہری بنانے کا قومی منصوبہ؟ معاشرتی سطح پر عدم برداشت، عدم مساوات، قانون کی کمزور عمل داری، سفارش، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی نے بھی ہمارے اجتماعی رویوں کو متاثر کیا ہے۔

ہمارا ایک بنیادی مسئلہ حکمرانی کا بحران بھی ہے۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں، لیکن عوام کے بنیادی مسائل بڑی حد تک وہی رہتے ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔ مقامی حکومتیں مضبوط ہوں، شہریوں کو اپنے علاقوں کے ترقیاتی فیصلوں میں شریک کیا جائے اور منتخب نمائندوں کو ان کی کارکردگی پر جواب دہ بنایا جائے۔ جب تک عوام کو اپنے بنیادی مسائل کے حل میں براہِ راست اختیار نہیں ملے گا، جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

زراعت، صنعت اور برآمدات ہماری معاشی بحالی کے اہم ستون ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پانی کے ضیاع، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی کمی، کسانوں کے معاشی مسائل اور زرعی پیداوار کی کم قدر افزائی کا سامنا کر رہا ہے۔ صنعت کو مہنگی توانائی، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور کاروباری لاگت جیسے مسائل درپیش ہیں۔ ہمیں خام مال برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن، جدید صنعت، آئی ٹی، فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت دینا ہوگی تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ اس تمام صورت حال میں سب سے اہم سوال قومی ترجیحات کا ہے۔ کیا ہم اپنی توانائیاں سیاسی محاذ آرائی، اقتدار کی کشمکش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر صرف کرتے رہیں گے یا قومی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گے؟ سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں، کاروباری طبقے، تعلیمی ماہرین، میڈیا اور سول سوسائٹی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کسی ایک حکومت یا جماعت کی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پاکستان کو ایک ایسے قومی ترقیاتی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں تعلیم، صحت، روزگار، زراعت، صنعت، توانائی، برآمدات، آبادی پر قابو پانے، ماحولیاتی تحفظ اور بلدیاتی نظام کو بنیادی ترجیحات بنایا جائے۔ ٹیکس نظام منصفانہ ہو، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور شفافیت ہو، سرمایہ کاروں کو اعتماد ملے، نوجوانوں کو ہنر اور مواقع فراہم کیے جائیں اور قانون کا اطلاق امیر و غریب سب کے لیے یکساں ہو۔ مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت، قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، کاروباری صلاحیت اور ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں، ترجیحات درست کریں اور ذاتی و سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔

پاکستان کو صرف معاشی استحکام نہیں، سماجی انصاف، بہتر حکمرانی، قانون کی بالادستی اور قومی یکجہتی بھی درکار ہے۔ کیونکہ مضبوط معیشت وہی ہوتی ہے جس کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں اور ترقی وہی حقیقی ترقی ہے جس میں معاشرے کا آخری فرد بھی عزت، تحفظ اور بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں