سمندری مخلوق آکٹوپس اپنی غیر معمولی لچک کے باعث ایسے چھوٹے سوراخوں سے بھی گزر سکتے ہیں جو بظاہر ان کے جسم سے کہیں زیادہ تنگ ہوتے ہیں۔ نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آکٹوپس سوراخ کے سائز کے مطابق اپنے آٹھ بازوؤں اور جسم کو سمیٹنے کے لیے دو مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔
سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے محققین نے تین عام آکٹوپس پر تجربات کیے اور انہیں مختلف سائز کے سوراخوں سے گزرتے ہوئے ریکارڈ کیا۔ تحقیق کے مطابق جب سوراخ آکٹوپس کی دونوں آنکھوں کے درمیان فاصلے سے زیادہ چوڑا ہو تو وہ تین مراحل میں اس سے گزرتا ہے، جبکہ اس سے تنگ سوراخ کے لیے چار مراحل اختیار کرتا ہے۔
پہلے طریقے میں آکٹوپس اپنے ایک بازو سے سوراخ کا جائزہ لیتا ہے، پھر کئی دوسرے بازو آگے نکالتا ہے اور ان کی مدد سے باقی بازوؤں، سر اور جسم کو کھینچ کر دوسری جانب لے جاتا ہے۔ تاہم جب سوراخ مزید تنگ ہو تو وہ ایک اضافی مرحلہ اختیار کرتا ہے اور پہلے اپنے باقی بازو نکالتا ہے، اس کے بعد سر اور جسم کو الگ الگ سمیٹ کر گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔
محققین کے مطابق آکٹوپس کے جسم میں ہڈیاں نہیں ہوتیں اور اس کے بازو انتہائی لچکدار ہوتے ہیں، جبکہ جسم کا مرکزی حصہ بھی اپنی شکل تبدیل کرسکتا ہے۔ تحقیق میں یہ سوال بھی سامنے آیا کہ آکٹوپس کے جسم کا کون سا حصہ کسی سوراخ سے گزرنے کی کم سے کم حد طے کرتا ہے۔ پہلے اس کی چونچ کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ بازوؤں کی جسم کے قریب موٹائی زیادہ اہم ہو۔
تحقیق کے شریک مصنف اور یونیورسٹی آف نیپلز کے ماہرِ حیاتیات مائیکل کوبا کے مطابق آکٹوپس اپنے بازوؤں میں موجود حسِ لمس کی مدد سے سوراخ کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس صلاحیت سے انہیں شکاریوں سے بچنے اور ایسی جگہوں تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے جہاں دوسری سمندری مخلوقات آسانی سے نہیں پہنچ سکتیں۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی میں شائع ہوئی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ آکٹوپس کی اس صلاحیت سے مستقبل میں ایسے جدید روبوٹس تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو زلزلوں، عمارتوں کے ملبے اور دیگر تنگ مقامات میں پھنسے افراد کی تلاش اور بچاؤ کے کام آ سکیں۔ ایسے روبوٹس میں لچکدار بازو نصب کیے جا سکتے ہیں جن پر مختلف سینسرز اور آلات موجود ہوں۔ تاہم انہیں تیار کرنا ایک بڑا انجینئرنگ چیلنج ہے، کیونکہ ان کے بازوؤں کو ایک طرف نرم اور لچکدار جبکہ دوسری طرف اتنا مضبوط بھی ہونا ہوگا کہ وہ تنگ راستوں سے گزر کر باقی جسم کو کھینچ سکیں۔