جاپان کے وزیرِ تجارت ریوسے اکازاوا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے خودکار ترجمے میں بار بار غلطیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترجمے کی غلطی نے انہیں سفارتی مشکل میں ڈال دیا۔
28 اکتوبر کو جاپانی وزیر نے بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات کی تصاویر ایکس پر شیئر کی تھیں، تاہم خودکار انگریزی ترجمے میں وزیراعظم طارق رحمان کے بجائے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کا نام ظاہر ہوگیا۔
جاپانی وزیر نے کہا کہ اس غلطی سے بنگلہ دیشی عوام کو یہ تاثر مل سکتا تھا کہ انہیں اپنے ملک کے وزیراعظم کا نام بھی معلوم نہیں۔ انہوں نے اسے ایک سنجیدہ معاملہ قرار دیا۔
اکازاوا کے مطابق یہ پہلی غلطی نہیں تھی۔ کویت کے وزیرِ تیل طارق الرومی سے آن لائن ملاقات کی پوسٹ کے ترجمے میں بھی کویت کے بجائے قطر کے وزیرِ توانائی کا نام آگیا۔ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک سے متعلق پوسٹ میں بھی نام غلط لکھا گیا۔
جاپانی وزیر نے کہا کہ انہیں تین مرتبہ ایسی غلطیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے ایکس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ خودکار ترجمے کے نظام کی خامیاں دور کی جائیں تاکہ اہم شخصیات اور سفارتی ملاقاتوں سے متعلق غلط معلومات سامنے نہ آئیں۔