سید محمد مرندی، ایران کے نمایاں صاحبِ دانش ہیں، ورجینیا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، تہران یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، امریکہ ان کی جائے پیدائش ہے، ایرانی حکومت کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔
موصوف نے اپنے ملک کی بہادری کے رجز پڑھتے ہوئے طعنہ اچھالا ہے کہ ہم مصر، ترکی، سعودیہ یا پاکستان نہیں ہیں۔ باقیوں کی تو باقی خود جانیں لیکن مرندی صاحب آپ واقعی پاکستان نہیں ہیں۔ بہت فرق ہے۔
پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، آپ ایک ایٹمی ملک نہیں ہیں۔ آپ پاکستان جیسے کیسے ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی ایٹمی قوت کی طرف آج تک کوئی میلی نظر سے نہیں دیکھ سکا، آپ کی ایٹمی قوت کو اگلے جب چاہیں حملہ کر کے تباہ کر دیتے ہیں۔ آپ پاکستان کیسے ہو سکتے ہیں۔
جب آپ کی قیادت پاکستان تشریف لائی تو پاکستان نے آپ کو حفاظتی حصار میں واپس پہنچایا، جبکہ آپ کے ہاں تو مہمان تشریف لائیں تو اسرائیل انہیں وہیں پر مار دیتا ہے۔ آپ پاکستان جیسے کیسے ہو سکتے ہیں۔
بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، پاکستان نے جواب میں ایسا حملہ کیا کہ جنوبی ایشیا کا تزویراتی منظر نامہ بدل دیا۔ آپ کو آئے روز اسرائیل ادھیڑ دیتا ہے اور آپ جواب دینے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔ چند میزائل آپ روانہ کرتے ہیں جو زیادہ تر راستے میں ہی روک لیے جاتے ہیں۔ آپ پاکستان کیسے ہو سکتے ہیں؟
پاکستان تو ایک مسلمہ قوت ہے جس کے ساتھ اب دیگر ممالک دفاعی معاہدے بھی کر رہے ہین اور آپ تو اپنی اعلی ترین قیادت کا تحفظ نہیں کر پاتے۔ دشمن انہیں شہید کر دیتا ہے۔ آپ اور پاکستان کا کیا تقابل؟
پاکستان دوست اور دشمن میں تمیز رکھتا ہے، آپ کو یہ فرق بھی معلوم نہیں ہے۔ پاکستان پر جس جس ملک نے جب جب کوئی احسان کیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ اسے یاد رکھا ہے، آپ کی تو یادداشت بھی کمزور ہے۔ کبھی تشکر پاکستان کہنے لگتے ہیں اور کبھی طعنہ زن ہو جاتے ہیں۔ آپ پاکستان کیسے ہو سکتے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ کے اس سارے بحران میں پاکستانیوں نے ایران کے ساتھ غیر معمولی خیرخواہی دکھائی۔ پڑوسی بھی ہے، برادر اسلامی ملک بھی ہے، لوگوں کے دل ایران کے ساتھ دھڑکے، لوگوں کی دعائیں ایران کے ساتھ تھیں، لوگ ایران کی سلامتی کے لیے روئے۔ لیکن آپ کو جیسے ہی موقع ملا آپ پاکستان پر طعنہ زن ہو گئے۔ آپ اور پاکستان میں یہی فرق ہے۔
حضور! آپ پاکستان نہیں ہیں اور آپ تو رستم اور سہراب ہیں، تو آپ جائیں نا، تل ابیب پر حملہ کریں اور اسرائیل کو نیست و نابود کر دیں۔ دیر کس بات کی ہے؟ پاکستان نے روک رکھا ہے آپ کو؟
آپ دکھی ہوں تو ہم آپ کے لیے دکھی ہوتے ہیں۔ آپ روئیں، ہم آپ کے لیے روتے ہیں۔ آپ پر برا وقت آئے، ہمارا دل بے قرار ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ جب اٹھتے ہیں، آپ پاکستان کو طعنہ دیتے ہیں۔ آپ جب اٹھتے ہیں، آپ پاکستان کو لعن طعن کرتے ہیں۔ آپ پاکستان جیسے کیسے ہو سکتے ہیں۔
پاکستان ساری مسلم امہ کے لیے سراپا خیر ہے اور خیر خواہی ہے۔ پاکستان کے دل میں ایران کے لیے بھی محبت اور خیر کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان بننا آسان نہیں ہوتا۔ امت کو تقسیم کرنے کی بجائے جوڑنے کا جذبہ ہو تب پاکستان بنتا ہے۔ پاکستان تقسیم کا عنوان نہیں ہوتا، وحدت کا عنوان ہوتا ہے۔
آپ بالکل بھی پاکستان نہیں ہیں۔
ٍاور اب آخر میں ایک بات پاکستانیوں کے لیے:
ایران کے پروفیسر صاحب نے اپنی بات کہی اور ایسا کہتے ہوئے انہیں اس کا کوئی احساس نہ تھا کہ پاکستان، پاکستانی اور پاکستان میں ان کے ہمدرد کیا سوچیں گے، ان کے جذبات تو مجروح نہیں ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ہر ریاست اپنا سوچتی ہے، باقی سب زیب داستاں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ہی لوگ اتنے بے قرار ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کے لیے اپنی ریاست کو سینگ دکھانے لگتے ہیں۔