کیا سوشل میڈیا ایپس کے اندر چائلڈ سیفٹی فیچرز مؤثر طور پر کام کر رہے ہیں؟

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مقبول سوشل میڈیا ایپس پر بچوں کے تحفظ کے لیے متعارف کرائے گئے کئی فیچرز ویسے کام نہیں کرتے جیسے کمپنیوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، نیویارک یونیورسٹی اور نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے درجنوں سیفٹی فیچرز کا جائزہ لیا ہے۔ تحقیق کے مطابق بعض فیچرز موجود ہی نہیں تھے، کچھ درست کام نہیں کر رہے تھے، جبکہ کئی کو آسانی سے بائی پاس کیا جا سکتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، نوجوان صارفین نقصان دہ مواد تلاش کر سکتے ہیں، نامعلوم بالغ افراد سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اسکرین ٹائم کی حدیں بھی آسانی سے نظر انداز کر سکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسنیپ چیٹ پر بالغ صارفین ایسے بچوں کو میسج ریکویسٹ بھیج سکتے تھے جنہیں وہ جانتے نہیں تھے، جبکہ ایپ نوجوان صارفین کو نامعلوم بالغ افراد کو دوست بنانے کی تجویز بھی دیتی رہی۔

انسٹاگرام پر بھی ایک نئے ٹین اکاؤنٹ کو ایسے افراد کو فالو کرنے کی تجاویز دی گئیں جو بظاہر نامعلوم بالغ مرد تھے، حالانکہ پلیٹ فارم نوجوان صارفین کے اکاؤنٹس کو ڈیفالٹ طور پر پرائیویٹ رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک نے کھانے کی خرابی سے متعلق نقصان دہ مواد کم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر نوجوان اکاؤنٹس کو بعض ایسی سرچ تجاویز دی گئیں جو ایٹنگ ڈس آرڈر یا خود کو نقصان پہنچانے والے مواد سے متعلق ہو سکتی تھیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں اپنی پالیسیوں میں اکثر ایسے جملے استعمال کرتی ہیں جن سے لگتا ہے کہ پلیٹ فارم بچوں کو نقصان سے بچانے کے لیے مضبوط اقدامات کر رہے ہیں، مگر عملی طور پر ان اقدامات کی وضاحت واضح نہیں ہوتی۔

یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک نے نوجوان صارفین کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کے لیے نوٹیفکیشنز متعارف کرائے، لیکن تحقیق کے مطابق یہ حدیں آسانی سے نظر انداز کی جا سکتی تھیں۔ مثال کے طور پر یوٹیوب پر 60 منٹ کی حد مکمل ہونے کے بعد صارف کو حد تبدیل کرنے یا اسی دن کے لیے نظر انداز کرنے کا آپشن دیا گیا۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں والدین کے کنٹرول، پرائیویسی سیٹنگز اور حساس مواد کو محدود کرنے والے فیچرز شامل ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ والدین کو ایسے ٹولز دیے جاتے ہیں جو بظاہر طاقتور لگتے ہیں، مگر عملی طور پر بچوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا کمپنیوں پر بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن ہراسانی، تنہائی اور جنسی استحصال جیسے خدشات کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
کئی ممالک بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت قوانین یا 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جبکہ ٹیک کمپنیوں کے سربراہان کو امریکی کانگریس کے سامنے بھی جواب دہی کا سامنا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے صرف والدین پر ذمہ داری ڈالنا کافی نہیں، بلکہ ٹیک کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر حقیقی، مؤثر اور شفاف حفاظتی اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں