امریکا اور ازبکستان نے دفاعی اور فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 2026 اور 2027 کے لیے دوطرفہ رابطہ کاری کے منصوبے پر بات چیت کی ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈنگ جنرل میجر جنرل مائیکل لینی نے ازبکستان کے نیشنل گارڈ کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری، مشترکہ تربیت اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی حکام نے کہا کہ واشنگٹن، تاشقند کے ساتھ اپنی طویل المدتی اور کامیاب دفاعی شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے اور ازبکستان کے فوجی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت میں تعاون جاری رکھے گا۔
بات چیت کے دوران 2026 اور 2027 کے لیے تفصیلی دوطرفہ تعاون کے منصوبے کو مربوط اور منظور کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
دونوں جانب سے ازبک ماہرین کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کے مزید مواقع بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس سلسلے میں امریکہ کے زیرِ انتظام انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، آئی ایم ای ٹی، پروگرام سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔
ملاقات کے شرکا نے کہا کہ تجربات کا منظم تبادلہ اور اعلیٰ معیار کی پیشہ ورانہ تعلیم سکیورٹی اداروں کے لیے تربیت یافتہ اہلکار تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
دونوں ممالک کے مطابق اس شعبے میں مشترکہ کوششیں وسطی ایشیا میں استحکام کو یقینی بنانے اور محفوظ مستقبل کی بنیاد مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔