بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کیے جانے کے بعد اب متاثرہ افراد کو سرکاری راشن اور فلاحی اسکیموں سے محرومی کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انتخابی فہرستوں کی متنازع خصوصی نظرثانی کے دوران مغربی بنگال میں تقریباً 90 لاکھ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے تھے۔
بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق اس عمل کا مقصد فوت شدہ، دوہرے یا مشکوک ووٹرز کو فہرستوں سے نکالنا تھا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے خاص طور پر مسلم آبادی والے اضلاع متاثر ہوئے۔
مغربی بنگال میں حالیہ ریاستی انتخابات کے بعد بی جے پی پہلی بار اقتدار میں آئی۔ نئی حکومت نے اعلان کیا کہ جن افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں، وہ سبسڈی والے راشن اور دیگر سرکاری فلاحی اسکیموں کے اہل نہیں ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق ریاستی محکمہ خوراک و رسد کے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے خارج افراد کے راشن کارڈز کو غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔
حکومت نے بعد میں وضاحت کی کہ جن تقریباً 23 لاکھ افراد نے اپنے نام کے اخراج کے خلاف خصوصی ٹریبونلز میں اپیل دائر کر رکھی ہے، انہیں فیصلے تک فلاحی فوائد ملتے رہیں گے۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی ووٹ کے حق سے محروم ہو چکے ہیں اور اب انہیں خدشہ ہے کہ راشن، نقد امداد اور دیگر بنیادی سہولتیں بھی چھن سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابقہ حکومت کی لکشمی بھنڈار اسکیم کے تحت خواتین کو ماہانہ مالی امداد دی جاتی تھی۔ بی جے پی حکومت نے اس اسکیم کا نام بدل کر اناپورنا یوجنا رکھا اور رقم بڑھائی، لیکن اس کے مستحقین کی دوبارہ جانچ ووٹر لسٹ سے جوڑ دی گئی۔
قانونی ماہرین نے اس اقدام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری فلاحی اسکیموں کو ووٹر لسٹ سے مشروط کرنا آئینی طور پر خطرناک مثال بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بہت سے قانونی شہری ایسے ہو سکتے ہیں جن کے نام ووٹر لسٹ میں نہ ہوں، جیسے 18 سال سے کم عمر بچے، اس لیے ووٹر نہ ہونے کی بنیاد پر کسی شہری کو خوراک یا امداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
مغربی بنگال کی ایک زرعی مزدور یونین نے اس فیصلے کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم عدالت نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔
اپوزیشن جماعت ترنمول کانگریس نے بھی اس اقدام کو غیر انسانی اور بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ سے نام کٹنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شہری نہیں رہے، اور نہ ہی اس بنیاد پر انہیں بھوکا رکھا جا سکتا ہے۔