سوشل میڈیا پر آج کل “پاؤنڈنگ دی اسٹیئرز” کا رجحان سامنے آ رہا ہے، جس میں لوگ ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے پوری طاقت کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے کی مشق کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس خیال میں کچھ سائنسی بنیاد موجود ہے۔ جب انسان زور سے سیڑھیاں چڑھتا ہے تو ہڈیوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جس سے جسم میں “بون ری ماڈلنگ” کا عمل متحرک ہو سکتا ہے۔ اس عمل میں پرانی ہڈی ٹوٹتی اور نئی ہڈی بنتی ہے، جس سے وقت کے ساتھ ہڈیاں مضبوط ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کو مضبوط بننے کے لیے مناسب دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وزن برداشت کرنے والی ورزشیں، جیسے سیڑھیاں چڑھنا، واک، جاگنگ، ڈانس، جمپنگ اور ویٹ ٹریننگ، ہڈیوں کی صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں۔
تاہم سیڑھیاں زور سے چڑھنا ہر شخص کے لیے مناسب نہیں۔ جن لوگوں کو گھٹنوں، کولہوں، پنڈلیوں یا جوڑوں میں درد ہو،اوسٹیو آرتھرائٹس ہو، یا پہلے سے ہڈی کمزور ہو، انہیں یہ مشق شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اگر جسم اس طرح کی ہائی-امپیکٹ ورزش کا عادی نہ ہو تو اچانک سیڑھیاں زور سے چڑھنے سے پنڈلی میں درد، گھٹنے کی تکلیف، پٹھوں میں کھنچاؤ یا اسٹریس فریکچر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اس لیے بہتر ہے کہ ایسی ورزش آہستہ آہستہ شروع کی جائے۔ پہلے عام انداز میں سیڑھیاں چڑھیں، پھر جسم کی برداشت کے مطابق رفتار یا زور میں اضافہ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ “پاؤنڈنگ دی اسٹیئرز” کو ہڈیوں کی صحت کے لیے ایک چھوٹا حصہ سمجھنا چاہیے، مکمل حل نہیں۔ مضبوط ہڈیوں کے لیے ریزستنس ٹرینننگ، اسکواٹس، ڈیڈ لفٹس، ہِف تھرسٹس، جمپ ٹریننگ، متوازن غذا، کیلشیم، وٹامن ڈی، مناسب نیند اور مستقل جسمانی سرگرمی بھی ضروری ہے۔
خاص طور پر درمیانی عمر کے بعد خواتین میں ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے اس عمر میں ہڈیوں کی صحت پر توجہ دینا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر سیڑھیاں چڑھتے وقت درد، چکر، سانس پھولنا یا جوڑوں میں تکلیف محسوس ہو تو ورزش فوراً روک دینی چاہیے اور طبی مشورہ لینا چاہیے۔