تائیوان حکومت نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مجوزہ 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے کو روکنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی ہے۔
تائیوان کے صدارتی دفتر کی ترجمان نے جمعہ کو کہا کہ تائیوان نے میڈیا رپورٹس ضرور دیکھی ہیں، لیکن اب تک امریکہ کی جانب سے اس معاہدے میں کسی تبدیلی یا تاخیر سے متعلق کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا تھا کہ کچھ غیر ملکی عسکری معاہدوں کو وقتی طور پر روکا جا رہا ہے تاکہ امریکہ کے پاس ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اپنے لیے کافی اسلحہ موجود رہے۔
امریکی اہلکار کے مطابق یہ روک عارضی ہے اور جب انتظامیہ مناسب سمجھے گی تو اسلحہ کی فروخت دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو امریکا چین تعلقات میں ایک ممکنہ سفارتی دباؤ یا ‘مذاکراتی ہتھکنڈہ’ قرار دیا ہے۔
تائیوان طویل عرصے سے امریکی اسلحے پر انحصار کرتا آ رہا ہے، کیونکہ چین اس خود مختار جزیرے کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے اور اس پر سخت اعتراض کرتا ہے۔ امریکہ اگرچہ تائیوان کو باضابطہ ریاست تسلیم نہیں کرتا، لیکن اس کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے اس کی حمایت کرتا ہے۔
تائیوانی صدر لائی چنگ-تے نے بھی کہا ہے کہ اگر موقع ملا تو وہ امریکی صدر سے درخواست کریں گے کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی جائے، کیونکہ ان کے مطابق یہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے۔
ادھر چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اس کی خودمختاری کے خلاف ہے اور یہ دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔
بیجنگ کا مؤقف ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے طاقت کے ذریعے بھی واپس لایا جا سکتا ہے۔