مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث الیکٹرانکس صنعت کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس سے سرکٹ بورڈز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق پرنٹڈ سرکٹ بورڈز، جو موبائل فونز، کمپیوٹرز اور مصنوعی ذہانت کے سرورز سمیت تقریباً تمام الیکٹرانک آلات میں استعمال ہوتے ہیں، کی قیمتیں اپریل میں تیزی سے بڑھیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب کے جبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملے کے بعد ایک اہم خام مال، ہائی پیوریٹی رال کی پیداوار متاثر ہوئی، جو سرکٹ بورڈ بنانے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تعطل کے باعث عالمی سطح پر اس مواد کی فراہمی محدود ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے پہلے سے مہنگے ہوتے الیکٹرانک پرزہ جات پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی میموری چپس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔
ادھر خام مال کی قلت اور مصنوعی ذہانت کے سرورز کی بڑھتی طلب کے باعث اپریل میں سرکٹ بورڈز کی قیمتوں میں مارچ کے مقابلے میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صنعت سے وابستہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ نہ صرف رال بلکہ تانبے اور فائبر جیسے دیگر اہم مواد کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے برسوں میں طلب میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس کے باعث قیمتوں میں دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی صنعتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں تک بھی پھیل رہے ہیں۔