آسٹریلیا کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ فوجی بن رابرٹس سمتھ کو منگل کے روز فغانستان میں غیر مسلح شہریوں کے قتل سے متعلق پانچ جنگی جرائم کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق 47 سالہ سابق آسٹریلین ڈیفنس فورس کے رکن کو سڈنی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا۔ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق ملزم کا نام بن رابرٹس سمتھ ہے۔
آسٹریلین فیڈرل پولیس کا کہنا ہے کہ ان الزامات کا تعلق 2009 سے 2012 کے دوران افغانستان میں پانچ افراد کے قتل سے ہے، اور ہر الزام کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔
پولیس کے مطابق متوقع طور پر مقتولین اس وقت کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے رہے تھے، بلکہ گرفتار اور غیر مسلح تھے اور اے ڈی ایف کے کنٹرول میں تھے۔
آسٹریلیا کی پولیس نے مزید بتایا کہ مقتولین یا تو ملزم نے خود مارے یا اس کے ماتحتوں نے اس کے حکم پر اور اس کی موجودگی میں انہیں ہلاک کیا۔
بن رابرٹس سمتھ کو افغانستان میں چھ دوروں کے دوران شجاعت کے اعزازات، بشمول وکٹوریہ کراس، سے نوازا گیا تھا اور اسے قومی ہیرو قرار دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے ہمیشہ خدمات کے دوران کسی غلط کام کے الزامات کی تردید کی ہے۔
2018 سے شروع ہونے والے نیوز رپورٹس میں الزام لگایا گیا تھا کہ رابرٹس سمتھ نے ایک غیر مسلح افغان نوجوان کو گولی مار دی اور ایک ہتھکڑیاں پہنے شخص کو کھائی میں دھکیل کر قتل کرنے کا حکم دیا۔
سابق خصوصی فورسز کے رکن رابرٹس سمتھ نے ان رپورٹس کو چیلنج کیا لیکن 2023 میں فیڈرل کورٹ نے پانچ میں سے چار قتل کے الزامات درست قرار دیے۔ ستمبر 2025 میں ہائی کورٹ نے آخری اپیل مسترد کر دی۔
ؒخبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلین فیڈرل پولیس اور خصوصی تحقیقات کے دفتر کی مشترکہ تحقیقات میں اب تک افغانستان میں اے ڈی ایف کے ممبران پر 53 جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کی گئی ہیں، جن میں سے 10 جاری ہیں۔ ایک اور سابق خصوصی فوجی اگلے سال فروری میں جنگی جرم کے مقدمے کا سامنا کرے گا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رابرٹس سمتھ کی گرفتاری کو عالمی انصاف اور احتساب کے لیے اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ آسٹریلین حکام کو تمام الزامات کی مکمل تحقیقات اور ضرورت پڑنے پر قانونی کارروائی یقینی بنانی چاہیے۔
گرفتاری کے دوران پولیس فوٹیج میں رابرٹس سمتھ کو سڈنی ایئرپورٹ پر پرواز سے اترتے ہوئے اور پولیس گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دکھایا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ اپنے دوست، ساتھی اور دو نوعمر بیٹیوں کے ساتھ برسبین سے سڈنی پہنچے تھے۔