امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگ امریکہ کے لیے بھاری مالیاتی بوجھ بن گئی ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں ملین ڈالر کے اخراجات سامنے آ رہے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس جنگ پر ہونے والے مجموعی اخراجات میں فوجی آپریشنز، ایندھن، لاجسٹکس اور ہتھیاروں کے استعمال کے اخراجات شامل ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس رقم کا تقریبا دس فیصد حصہ میدانِ جنگ میں تباہ ہونے والے فوجی سازوسامان کی قیمت پر مشتمل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ امریکہ پر مالی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جدید اور مہنگے ہتھیار بڑی تعداد میں استعمال ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب، اس جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، جہاں توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر انتہائی دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس سے عام آدمی کا روزانہ خرچ بڑھ رہا ہے اور گھریلو ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان تمام اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جن کی تیاری کے عمل میں پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں۔