بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو دی گئی اربوں ڈالر کی مالی معاونت سے متعلق ایک اچانک پیش رفت نے پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم، جو پہلے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے رکھی گئی تھی، اب واپس کی جا رہی ہے جس سے مالی صورتحال مزید نازک ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ فنڈز دو طرفہ معاہدوں کے تحت پاکستان کو فراہم کیے گئے تھے اور انہیں کئی بار توسیع دے کر برقرار رکھا گیا۔ تاہم اب ان کی مدت مکمل ہونے کے بعد پاکستان ساڑھے 3 ارب ڈالر واپس کرنے پڑ رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر ملک کے زرمبادلہ ذخائر پر پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کے ڈالر ذخائر، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، مزید کم ہو سکتے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کے ذخائر تقریبا 16 ارب ڈالر کے قریب ہیں، اور اس میں سے اربوں ڈالر کی واپسی سے مالی گنجائش محدود ہو جائے گی۔
پاکستان کو اس ماہ متحدہ عرب امارات کو تقریبا 3.5 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، جو مرحلہ وار ادا کیے جائیں گے۔ اس بڑی ادائیگی سے نہ صرف ذخائر متاثر ہوں گے بلکہ روپے پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور بیرونی ادائیگیوں کا نظام مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پہلے ہی عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت بیرونی مالی مدد پر انحصار کر رہا ہے۔ ایسے میں خلیجی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے مالی تعاون میں تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن سکتی ہے۔