میننجائٹس نہایت سنگین اور جان لیوا بیماری ہے جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو ڈھانپنے والی جھلیوں میں انفیکشن کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ عالمی ماہرین صحت کے مطابق یہ مرض بدستور عوامی صحت کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے اور اس کے باعث دنیا بھر میں ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔یہ خطر ناک بیماری مختلف جراثیم، بشمول بیکٹیریا، وائرس اور فنگس، کے ذریعے لاحق ہو سکتی ہے، بیکٹیریائی میننجائٹس کو اس کی شدت اور اموات کی بلند شرح کے باعث سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے
طبی تحقیق کے مطابق شدید بیکٹیریائی میننجائٹس کی بنیادی وجوہات میں میننگوکوکس، نیوموکوکس، ہیموفیلس انفلوئنزا اور اسٹریپٹوکوکس ایگلیکٹیا (گروپ بی اسٹریپٹوکوکس) شامل ہیں۔ ان میں میننگوکوکس سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ بڑے پیمانے پر وباؤں اور تیز رفتار پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس بیماری کا سب سے زیادہ دباؤ اور اثرات افریقہ کے اس خطے میں دیکھا جاتا ہے جسے “میننجائٹس بیلٹ” کہا جاتا ہے، جو مغرب میں سینیگال سے مشرقی افریقہ میں ایتھوپیا تک پھیلا ہوا ہے
ماہرین کے مطابق میننجائٹس ہر عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اموات کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے، جو اس بیماری کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔ بیماری کے پھیلاؤ کا انحصار جراثیم کی نوعیت پر ہوتا ہے، لیکن عموماً یہ بیکٹیریا انسانی ناک اور گلے میں موجود ہوتے ہیں اور سانس کے قطروں یا گلے کی رطوبت کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں
مزید برآں، گروپ بی اسٹریپٹوکوکس انسانی آنتوں یا خواتین کے جسم میں پایا جا سکتا ہے اور زچگی کے دوران ماں سے نومولود بچے میں منتقل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان جراثیم کی موجودگی عموماً بے ضرر ہوتی ہے اور جسم میں مدافعت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم بعض حالات میں یہی جراثیم جسم کے دفاعی نظام کو متاثر کر کے میننجائٹس اور خون کے شدید انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں
طبی ماہرین نے دنیا بھر کی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بیماری کی روک تھام، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کے لیے جامع حکمت عملی اپنائیں، جبکہ عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے