فردین خان، جو نوے کی دہائی میں فلمی دنیا کے مشہور اور خوبصورت اداکاروں میں شمار ہوتے تھے، سن دو ہزار دس میں فلموں سے دور ہو گئے تھے۔ چودہ برس کے وقفے میں ان کا وزن خاصا بڑھ گیا تھا اور وہ پہچانے نہیں جاتے تھے۔ لیکن پھر ایک وقت آیا جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب اپنی صحت پر توجہ دینی ہے اور خود کو بدلنا ہے۔
فردین نے بتایا کہ ان کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب وبا کے دنوں میں انہوں نے مکمل طور پر نشہ چھوڑ دیا۔ ان کے مطابق نشے کی وجہ سے ان کی توانائی کم ہو گئی تھی اور ذہن دھندلا رہتا تھا۔ جب انہوں نے پینا چھوڑا تو انہیں محسوس ہوا کہ جیسے دماغ کا بوجھ ہٹ گیا ہو۔ وہ خود کو پھر سے جوان محسوس کرنے لگے۔
صرف نشہ چھوڑنے سے ہی نہیں، فردین نے کھانے پینے اور جسمانی مشق کا بھی خاص خیال رکھا۔ وہ روزانہ پندرہ سے سولہ گھنٹے کا روزہ رکھتے، اور صرف گھر کا سادہ اور صحت بخش کھانا کھاتے جس میں گوشت، دالیں اور قدرتی چکنائی شامل ہوتی۔ وہ چینی اور زیادہ نشاستے والے کھانوں سے پرہیز کرتے۔ انہوں نے بدن کو مضبوط کرنے والی مشقیں اور سانس پھلانے والی چہل قدمی کو روز کا معمول بنا لیا۔ لندن میں انہوں نے اپنے گاڑی کھڑی کرنے والے کمرے کو ورزش کا کمرہ بنا لیا اور ماہرین کی رہنمائی میں مشق کرتے رہے۔
فردین نے یہ بھی بتایا کہ ان کی ذہنی کیفیت میں بھی بہت بہتری آئی، اور وہ چاہتے تھے کہ جسمانی طور پر پھر سے پچیس برس کے محسوس ہوں۔ ان کے دو بچے، ڈیانا اور آزارئیس، بھی ان کے لیے بڑی حوصلہ افزائی بنے، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ بچوں کے ساتھ بھرپور وقت گزار سکیں، کھیل سکیں، سیر کر سکیں۔
اب فردین نہ صرف بہتر دکھائی دیتے ہیں بلکہ اپنے آپ پر اعتماد بھی محسوس کرتے ہیں۔ ان کی یہ تبدیلی صحت مند زندگی گزارنے کی ایک بہترین مثال ہے۔