روزمرہ سلاد کا استعمال آپکی صحت کو تندرست رکھنے میں معاون ثابت ھوتا ھے ۔
قدرت کی پیدا کی ہوئی کوئی بھی چیز ھمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ھے ۔ ھم اگر اپنی روزمرہ زندگی کو تندرست و توانا رکھنا چاھتے ھیں تو پھر ھمیں غذا و پرھیز پر خصوصی توجہ دینی ھوگی ۔ جہاں پر پکی ہوئی خوراک کا استعمال ھوتا ھے وھاں پر کچی سبزیوں و پھلوں کا استعمال بھی آپکی صحت کے لئے بہت فائدہ کا باعث ھے ۔
موسمی سلاد :
سلاد ، پیاز، ٹماٹر اور پودینہ کو کاٹ کر ان میں نمک اور سیاہ مرچ کا پاؤڈر شامل کریں اور مناسب سمجھیں تو اس پر لیموں کا رس ڈا لیں، بہت لذیذ مرکب بن جائے گا۔
کدو
وٹامن سی سے بھر پور کدو کی سبزی کو لوکی بھی کہا جاتا ہے، یہ سبزی لمبی اور گول شکل میں بھی پائی جاتی ہے، کدو کے استعمال سے گرمی کی شدت سمیت کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جبکہ فرحت بخش ہری سبزی لوکی کے مختلف طریقوں سے استعمال کرنے سے بے شمار طبی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
لوکی وٹامنز اور منرلز کا مجموعہ ہے، ماہرین غذائیت لوکی کو صحت بخش سبزی قرار دیتے ہیں اسی لیے کولیسٹرول لیول، شوگر لیول اور بلڈ پریشر متوازن رکھنے کے لیے لوکی تجویز کی جاتی ہے، لوکی وٹامن سی، کے، اے، ای، آئرن فولک ایسڈ، پوٹاشیم اور میگنیشیم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جبکہ اس میں 92 فیصد پانی اور صفر کیلوریز پائی جاتی ہیں۔
کھیرا :
کھیرا کے باریک باریک قتلے کاٹ لیں، اس میں ابلے ہوئے آلو، ٹماٹر، سبز پودینہ شامل کرلیں اور نمک و مرچ سیاہ چھڑک کر اس میں لیموں کا رس حسب ذائقہ نچوڑ لیں، بہت خوش ذائقہ ہو گا کیونکہ ایسے لوازمات سے کھانا زیادہ کھایا جاتا ہے اور جلد ہضم ہو جاتا ہے۔
مولی:
مولی کو کدو کش کر لیا جائے پھر اس میں مولی کے پتے ، پیاز اور ٹماٹر کاٹ کر شامل کر لیں، اس پر نمک اور سیاہ مرچ پسی ہوئی ڈال کر کھائیں، بہت طاقتور اور ہاضم چیز ہے۔
ان اشیاءکو روٹی سے کھائیں اگر چاہیں تو ان میں بعض موسمی پھل بھی شامل کر لیں اگر کوئی آدمی دو تین ماہ کچی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کرے تو اس کے جسم میں غیر معمولی چستی ، پھرتی اور طاقت رونما ہو جائے گی اور جسم کے اندر جس قدر زہریلے اور گندے مادے ہوں، نکل جائینگے اور تندرستی اور توانائی عود کر آئے گی۔
لیموں کی چائے:
اگر طبیعت بھاری ہو، متلاتی ہو تو صبح کے وقت ہلکی چائے بنا کر لیموں نچوڑ کر پئیں، بے حد فائدہ ہو گا۔ طبیعت کو فرحت حاصل ہو گی۔
لیموں کا اچار:
خوب عمدہ لیموں پچاس عدد لے لیں۔ نمک 1 کلو ملا کر آٹھ دن تک دھوپ میں رکھیں، اس کے بعد لیموں خشک کر لیں اور کسی مرتبان میں ڈال کر ا س میں دگنے لیموں کا عرق نچوڑ دیں۔ چار دن تک دھوپ میں رکھیں، صحت بخش لیموں کا اچار تیار ہے۔
لیموں کی سکنجبین:
حسب ضرور پانی لے کر حسب ذائقہ چینی ملا لیجئے۔ اس کے بعد لیموں کا رس ملا لیجئے ، خوش ذائقہ سکنجبین تیار ہے۔
سر کی خشکی کےلئے:
سر میں خشکی ہو تو تل کے ایک پاؤ تیل میں چوتھائی حصہ لیموں کا عرق ملا کر چند دن تک بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح لگائیے، خشکی دورہو جائے گی۔
لیمن سکوائش آفتابی:
کلو بھر عمدہ رسیلے لیموں کا رس نکال لیں اور عرق میں سیر بھر چینی ملا کر مسلسل سات دن تک دھوپ میں رکھیں ، اس میں اپنی حسب منشا ایسنس بھی ڈال سکتے ہیں۔ فلٹر کر کے خشک بوتلوں میں بھر لیں۔
بالوں کےلئے:
لیموں کے رس میں آملہ پیس کر بالوں کی جڑوں میں نہانے سے گھنٹہ پہلے لیپ کر لیں۔ اس عمل سے بال لمبے اور چمکیلے ہو جائیں گے۔ چہرے کی رنگت کےلئے رات کو سونے سے قبل خوب اچھی طرح منہ دھو کر تولیے سے خشک کر لیجئے۔
اس کے بعد تازہ لیموں کا رس نکال کر کپڑے سے چھان کر آنکھوں کوبچا کر منہ دھو لیجئے۔ انشاءاللہ چہرے کے داغ،مہاسے، کیل اور چھائیاں چند دنوں میں ہی دور ہو جائیں گی۔
لیموں کے طبی فوائد:
یہ سرد تر ہے، حرارت کو تسکین دیتا ہے، طبیعت کی بد اعتدالی کو دور کر کے سکون پیدا کرتا ہے۔ پیاس بجھاتا ہے، مقوی معدہ ہے، قے کو بند، متلی کو دور کرتا ہے۔ حفظ ما تقدم کے طور پر ملیریا میں مفید ہے۔
پیاز:
اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک جنگلی اور دوسری بستانی۔ ان دونوں میں بظاہر کوئی فرق نہیں لیکن بستانی پیاز کھانے اور ادویات میں مستعمل ہے۔اس کا مزاج گرم و تر ہے۔ بعض کے نزدیک گرم و خشک بھی ہے۔ یہ مشہور و عام سبزی ہے‘ جس کے بغیر سالن نہیں پکایا جاتا۔ اس کو گوشت میں مصالحہ کی بجائے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا جو شاندہ تقطیر البول میں نافع ہے۔ برسات کے موسم میں اس کا استعمال موسمی بیماریوں کے لئے بڑا مفید ہے۔ اس کا اچار کھانے سے ریاح کو بے حد فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ تلی کے ورم کا بڑا علاج ہے ۔ غذا میں اس کے استعمال سے آنکھوں کی بیماریوں میں افاقہ ہوتا ہے۔ ہیضہ میں نافع ہے۔
لہسن(تھوم) :
یہ تیسرے درجے میں گرم و خشک ہے، اس کا رنگ زردی مائل سفید اور ذائقہ تلخ و تیز ہوتا ہے۔ اس کے دو دن کے استعمال سے خون کا دباؤ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ یہ پولیو ، آنتوں کے امراض ، جسمانی کیڑوں، امراض جلد، پھوڑے تبخیر ، نظام تنفس کی جراثیم زدگی اور فشار الدم جیسے امراض میں مفید ہے۔ یہ دماغی امراض ، دق اور سل کےلئے بھی مفید ہے۔ یہ پیشاب و حیض جاری کرتا اور آواز کو صاف کرتا ہے۔ امراض دمہ، وجع المفاصل،فالج، لقوہ اور رعشہ میں مفید ہے۔
ادرک:
اس کا مزاج گرم و خشک ہوتاہے۔ محلل ریاح وہاضم طعام ہے۔ اس قیمتی شفاءبخش جڑ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں بھی فرمایا ہے۔ اس کا طبی نام زنجبیل ہے۔ زنجبیل کو محرک، مشتہی، ہاضم، کاسر ریاح، افعال کی بنا پر ضعف اعصاب اور بلغمی عوارضات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ٹماٹر :
وٹامن اے ، سی، ایچ ، فولاد ، اور نمکیات وغیرہ سے بھرپور سبزی ھے ۔ گھر میں پکنے والے کھانوں اور سلاد کی رونق ھے، کھانے کو ھضم کرتا ھے ، خون کی کمی ، قبض کشا ،یرقان ،ذیابیطس ، موٹاپا میں مفید ھے ۔ گرمی کوزائل کرتا ھے ۔ دانتوں کو مضبوط بناتا ھے ، گردہ کی پتھری والوں کے لیے نقصان دہ ھے ۔
چقندر :
یہ غذایت سے بھرپور سبزی ھے ،قبض کشا ھے ، ھاضمے کی خرابی ، جوڑوں کے امراض ، داغ دھبے ، چھائیوں ، ھائی بلڈ پریشر اور جسم کے فاسد مادوں کو خارج کرتا ھے ۔
گاجر
وٹامن اے ، بی ، ای ،کیروٹین ، سمیت کئی قسم کے وٹامنز کا بھرپور خزانہ ھے ۔گاجر بصارت ، ھڈیوں اور دانتوں کی کمزوری کے لیے بہت سود مند ھے ۔
سلاد کے پتے
آئرن، کیلشیم ، میگنیشیم ، پوٹاشییم وغیرہ اس کے اھم جز ھیں ۔ یہ یاداشت کو بحال کرنے ، کولیسٹرول کو کم کرنے میں بہت مفید ھیں ، یہ وزن کو کم کرنے میں بھی کارآمد ھے ۔
سوھانجنا
سوہانجنا ( مورینگا ) کی پھلی میں دودھ کے مقابلے میں 17 گنا زیادہ کیلشیم، دہی سے 9 گنا زیادہ پروٹین، گاجر سے 4 گنا زیادہ وٹامن اے، بادام سے 12 گنا زیادہ وٹامن ای، کیلے سے 15 گنا زیادہ پوٹاشیم اور پالک سے 19 گنا زیادہ فولاد شامل ہوتا ہے۔ سوہانجنا کے پتوں کی افادیت دیکھتے ہوئے مختلف ممالک میں انہیں بطور غذا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک میں اس کے عرق سے کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ بناکر فروخت کیے جا رہے ہیں۔