اقوام متحدہ کی فلسطینی مہاجرین سے متعلق ایجنسی انروا(UNRWA) نے غزہ سے فاقہ کشی کی حالت میں بے حد مایوس کن پیغامات موصول ہونے کا انکشاف کیا ہے، جن میں ایجنسی کے اپنے عملے کی فریادیں بھی شامل ہیں۔ یہ پیغامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب غزہ میں انسانی بحران مسلسل سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔
UNRWA نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہاکہ، غذا کی قیمتیں 40 گنا بڑھ چکی ہیں، جبکہ غزہ کی سرحد کے بالکل باہر UNRWA کے گوداموں میں اتنا کھانا موجود ہے کہ پوری آبادی کے لیے تین ماہ تک کافی ہے۔
ایجنسی نے زور دیا کہ، یہ اذیت ناگزیر نہیں، بلکہ ایک ‘انسانی پیدا کردہ بحران’ ہے جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ، غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانوں کا پیدا کردہ ہے اور اسے روکا جانا ضروری ہے۔ محاصرہ ختم کریں، اور امداد کو محفوظ طریقے سے اور بڑے پیمانے پر اندر جانے دیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ قحط کے دہانے پر کھڑا ہے، اور سرحدی گزرگاہوں پر سخت پابندیاں اور امداد کی محدود رسائی صورتحال کو بدترین بنا رہی ہیں۔