باہمی تجارت دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم، تاشقند کے گورنر کی قیادت میں ازبک وفد کی لاہور چیمبر آمد

تاشقند ریجن کے گورنر مرزائیوو زویئر کی قیادت میں ازبکستان کے اعلیٰ سطح کے 20 رکنی سرکاری وفد نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا۔ وفد میں چرچک ضلع کے گورنر اور نائب گورنر، مقامی کمپنیوں کے لیے گورنر کے مشیر، تاشقند چیمبر آف کامرس کے نمائندگان اور ازبک کمپنیوں کے سربراہان شامل تھے۔

اسلام آباد میں تعینات ازبک سفیر علی شیر تختیوف بھی وفد کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر پاکستانی کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمان سیگل نے اپنی ٹیم کے ہمراہ وفد کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ ازبک اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کے درمیان براہِ راست کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا۔

تاشقند ریجن کے گورنر مرزائیوو زویئر نے لاہور چیمبر کے عہدیداران اور ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ ازبک صدر شوکت مرزائیوف کے حالیہ دورۂ پاکستان کا تسلسل ہے، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے متعدد اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت نے تعلقات کے فروغ کے لیے جو اعتماد کی فضا قائم کی ہے، وہ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے تاشقند ریجن کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت علاقے میں 80 ہزار سے زائد صنعتیں موجود ہیں جبکہ 70 سے زیادہ ممالک نے سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت 22 کمپنیوں میں پاکستانی شہری بھی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان ایک ترقی پذیر معیشت کے طور پر سالانہ تقریباً 6 فیصد شرح سے ترقی کر رہا ہے جبکہ گزشتہ سال معاشی ترقی کی شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ازبکستان کی بڑھتی ہوئی معیشت میں سرمایہ کاری اور تجارت کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔

ازبک سفیر علی شیر تختیوف نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک اہم مرحلہ ہے کیونکہ دونوں ممالک کے کاروباری افراد ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں، جو اقتصادی سرگرمیوں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سیاسی اعتماد کو بڑے اقتصادی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سیاسی رہنماؤں نے جس اعتماد کی بنیاد رکھی ہے، اس کے نتیجے میں پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ تجارت کے علاوہ تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور ازبکستان کے درمیان براہ راست پروازوں کی تعداد ہفتہ وار چار تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم دروازہ ہے جہاں تقریباً 8 کروڑ کی منڈی موجود ہے۔ اسی طرح ازبکستان کے لیے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی بڑی مارکیٹ اہمیت رکھتی ہے جبکہ سمندری راستوں تک رسائی کے لیے بھی پاکستان کلیدی کردار رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنی 147 ارب ڈالر تک پہنچتی ہوئی جی ڈی پی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ازبکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمان سیگل نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ازبک وفد کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ میں گہری دلچسپی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان وسطی ایشیا کی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور امید ہے کہ دونوں ممالک کے تجارتی وفود ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان زراعت، چمڑے، کھیلوں کے سامان، ادویات اور تعمیراتی مواد کی تیاری میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ تمام شعبے پاکستان کے مضبوط صنعتی ڈھانچے سے وابستہ ہیں اور ان میں براہ راست تجارت دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

فہیم الرحمان سیگل کے مطابق پاکستان کی برآمدات گزشتہ دو برسوں میں بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ صرف چاول کی برآمدات 3.3 ارب ڈالر جبکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات 18 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے بعد متعدد بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں بھی ہوں گی جس سے دونوں ممالک کے تاجر مستفید ہوں گے اور باہمی تجارت کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔

کانفرنس میں شریک کاروباری شخصیات نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان موجودہ دو طرفہ تجارت دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور چیمبر اور ازبک وفد مل کر تجارت میں اضافے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

بعد ازاں فہیم الرحمان سیگل نے تاشقند اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ازبک وفد کے اس دورے کا مقصد بھی دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کو عملی شکل دینا اور کاروباری برادری کو قریب لانا ہے تاکہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں