اقتصادی تعاون تنظیم کا 17 واں سربراہی اجلاس اختتام پزیر،اگلا اجلاس ایران میں ہوگا

اقتصادی تعاون تنظیم کا 17واں اجلاس آذربائیجان کے شہر خنکندی میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت آذربائیجان نے صدر الہام علیوف کی قیادت میں کی۔

اجلاس کا مقصد پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ای سی اوکے نئے وژن کا تعین کا کرنا تھا۔
اجلاس میں ای سی او کے تمام 10 رکن ممالک کے سربراہانِ ، وزرائے خارجہ، مبصرین اور خصوصی مہمانوں سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اجلاس سے خطاب میں ماحولیاتی تبدیلی اور خطے کو درپیش مشترکہ ماحولیاتی چیلنجز پر زور دیا۔ انہوں نے باکو میں ہونے والی COP-29 عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں کیے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد کی حمایت کا اعادہ کیا۔ صدر مرزائیوف نے صحرائی علاقوں میں شجرکاری اور تفریحی مقامات کےقیام کی تجویز بھی دی۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ای سی او کےرکن ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے گہرے اثرات کا سامنا ہے۔ان مسائل سے لاکھوں لوگوں کا غذائی تحفظ اور روزگار خطرے میں ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے ایک جامع پالیسی بنائی ہے، تاہم موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات ضروری ہے۔

ای سی او اجلاس کے دوران آذربائیجان کے مختلف شہروں میں یوتھ، ویمن، اوربزنس فورمز بھی منعقد ہوئے۔رکن ممالک نے اتفاق کیا کہ اگلا ای سی او سربراہی اجلاس 2027 میں ایران میں ہوگا، جو خطے میں تعاون کے تسلسل اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں