مئی کے دوران پاکستان میں 128 دہشت گرد حملے ہوئے، رپورٹ

دو ماہ کی نسبتاً بہتر صورتحال کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ پیس اسٹڈیز کی ماہانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 128 دہشت گرد حملے ہوئے، جو اپریل کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 71 شہری، 68 سکیورٹی اہلکار اور 6 امن کمیٹیوں کے ارکان شہید ہوئے، جبکہ زخمیوں میں 147 شہری، 35 سکیورٹی اہلکار اور 3 امن کمیٹی کے ارکان شامل تھے۔

گزشتہ ماہ خودکش حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مئی میں 6 خودکش حملے ہوئے، جن میں 4 بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے حملے شامل تھے۔ ان خودکش حملوں کے نتیجے میں 34 سکیورٹی اہلکار اور 9 شہری شہید ہوئے۔ اس سے قبل مارچ اور اپریل میں صرف ایک خودکش حملہ رپورٹ ہوا تھا۔

مئی کے دوران بلوچستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ رہا، جہاں دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مئی کے دوران 71 دہشت گرد حملے ہوئے، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 34 تھی۔ اس طرح ایک ماہ کے دوران حملوں میں 109 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مئی کے دوران ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے 54 اغوا کے واقعات میں سے 52 صرف بلوچستان میں پیش آئے، جو صوبے میں شدت پسند گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

دوسری جانب دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز کر دیں۔ پی آئی سی ایس ایس کے اعداد و شمار کے مطابق مئی کے دوران سکیورٹی فورسز نے 270 دہشت گرد ہلاک اور 15 کو گرفتار کیا۔

ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں سے 128 سابق فاٹا کے اضلاع میں، 62 خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں، 71 بلوچستان میں جبکہ ایک پنجاب میں مارا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم بلوچستان میں دہشت گردی اور اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں