جاپان سے تعلق رکھنے والی 108 سالہ خاتون نے دنیا کی سب سے معمر خاتون حجام کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔ وہ نو دہائیوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں اور اب بھی کام جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہیں۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق Shitsui Hakoishi نامی خاتون Nakagawa میں اپنا ہیئر سیلون چلا رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مرتے دم تک اپنا کام جاری رکھیں گی۔ انہوں نے اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہر ایک کا شکریہ ادا کیا۔
Shitsui Hakoishi کی پیدائش 10 نومبر 1916 کو ایک کاشتکار خاندان میں ہوئی، جہاں وہ چوتھی اولاد تھیں۔ 14 سال کی عمر میں وہ تنہا ٹوکیو منتقل ہوئیں اور وہاں حجامت کا فن سیکھنا شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے آگے نکلنا چاہتی تھیں، اسی لیے رات گئے تک اپنی مہارت کو نکھارتی تھیں۔ 1936 میں، اپنی 20 ویں سالگرہ سے پہلے ہی انہوں نے حجامت کا لائسنس حاصل کر لیا اور 1939 میں اپنے شوہر کے ساتھ مل کر کاروبار کا آغاز کیا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک فضائی حملے میں ان کا سیلون تباہ ہوگیا جبکہ ان کے شوہر کو جاپانی فوج میں بھرتی کر لیا گیا، جو جنگ کے بعد واپس نہ آسکے۔ انہیں 1953 میں باضابطہ طور پر شوہر کی موت کا سرکاری نوٹیفکیشن موصول ہوا، جس کے بعد انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش کے لیے ایک چھوٹے سے سیلون سے دوبارہ کام شروع کیا۔
انہوں نے اپنی لمبی عمر کا راز روزانہ درجنوں ورزشیں کرنے کو قرار دیا جو وہ 70 سال کی عمر سے باقاعدگی سے کرتی آ رہی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں 2021 کے ٹوکیو اولمپکس میں مشعل اٹھانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اب گھٹنوں میں درد کے باعث وہ پہلے کی طرح زیادہ بال نہیں کاٹ سکتیں، لیکن پھر بھی ہر ماہ چند خاص گاہکوں کی حجامت خود کرتی ہیں۔ یہ معمر جاپانی خاتون اپنی مستقل مزاجی اور محنت سے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک مثال بن گئی ہیں۔