پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سعودی سرمایہ کار وفد کے دورے کے دوران مختلف شعبوں جیسے صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک، تعلیم، کان کنی، صحت، پیٹرولیم، اور توانائی میں 2.2 ارب ڈالر مالیت کی 27 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے ہمراہ دستخط شدہ کاپیوں کا تبادلہ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے سعودی کاروباری وفد کے دورے کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستانی عوام کے لیے محبت کا مظہر قرار دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور کہا کہ معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے سعودی وژن 2030 کی حمایت کے ساتھ ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
سعودی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی معاشی استحکام میں مدد کرنے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو خاندانی رشتہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دستخط کردہ یادداشتیں ایک نئے سفر کا آغاز ہیں۔
مہمان وفد نے صدر آصف زرداری اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں معیشت، زراعت، کان کنی، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ جنرل عاصم منیر نے سعودی عرب کی پاکستان کے لیے غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ دورہ ایک اہم وقت پر ہو رہا ہے، جب پاکستان معاشی بحالی کے سفر پر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں کان کنی، آئی ٹی، زراعت، اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں سعودی سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش مواقع موجود ہیں۔
یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔