سعودی عرب پر حوثی حملے پاکستان پر حملے تصور ہوں گے، سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے: پاکستان

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے ایران تک یہ پیغام پہنچایا ہے کہ سعودی عرب پر حملے پاکستان کی ریڈ لائن ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے۔ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی ان کے زیرِ کنٹرول ایک ہوائی اڈے پر مبینہ سعودی حملے کے جواب میں کی گئی۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوجی سعودی عرب کی یمن سے ملحقہ سرحد کے قریب بھی تعینات ہیں، جس سے کسی نئی کشیدگی کی صورت میں پاکستان براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔

پاکستانی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر حوثیوں کے حملوں کا دائرہ وسیع ہوا تو بحیرۂ احمر میں جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ پاکستان سمیت متعدد ممالک کی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری مفاہمت کرانے میں کردار ادا کیا تھا اور وہ اب بھی ثالثی کا عمل جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق ایران امریکا مفاہمتی کوششوں میں پاکستان نے سیاسی اور سفارتی سرمایہ لگایا ہے، اس لیے اسلام آباد اس عمل کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔

تاہم بعض پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سے مدد طلب کی تو اسلام آباد ریاض کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

خطے میں کشیدگی کے باعث پاکستان کی توانائی ضروریات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ آبنائے ہرمز کے اطراف صورتحال خراب ہونے سے تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ کے خدشات بڑھے، جس کے بعد حکومت نے ایندھن کی بچت اور ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں