فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹینا نے مصر کو 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی، تاہم میچ کے بعد وی اے آر(VAR ) فیصلے اور ریفری کی کارکردگی پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔اٹلانٹا میں کھیلے گئے میچ میں ابتدائی طور پر مصر کو برتری حاصل تھی، مگر ایک لیٹ وی اے آر فیصلے کے بعد مصر کا گول منسوخ کر دیا گیا، جس کے بعد میچ کا رخ بدلتا دکھائی دیا۔
مصر کے کیمپ نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ وی اے آر نے اتنی دیر بعد مداخلت کیوں کی، خاص طور پر اس وقت جب مصر نے گول کر لیا تھا۔ مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے میچ کے بعد کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ عالمی چیمپئن ارجنٹینا کو ٹورنامنٹ میں برقرار رکھنے کے لیے مدد ملی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ممکن ہے انتظامیہ پر دباؤ ہو کہ لیونل میسی اور ارجنٹینا ورلڈ کپ میں آگے جائیں۔
تاہم یہ الزام ثابت شدہ حقیقت نہیں بلکہ مصر کے کوچ اور بعض ماہرین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات ہیں۔
اس سے ایک دن پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جانی انفینٹینو سے متعلق ایک اور تنازع سامنے آیا تھا، جس میں امریکا کے اسٹرائیکر فولارِن بالوگن کی معطلی کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔
سپورٹس ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نے ورلڈ کپ میں کھیل، سیاست اور ریفری فیصلوں کے درمیان حدود کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔ اسپورٹس پالیسی ماہر سائمن چیڈوک نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ بالوگن معاملے کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ کون سے فیصلے قابلِ اعتماد ہیں اور کون سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حامی سمجھے جاتے ہیں، اس لیے سیاسی پس منظر بھی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔
فٹبال تجزیہ کار علی الغرنی کے مطابق مصر کے گول سے پہلے ہونے والی خلاف ورزی کو فاؤل قرار دیا جا سکتا تھا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ وی اے آر کو کتنی دیر پیچھے جا کر گول کی قانونی حیثیت جانچنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میچ کے 50-50 فیصلوں میں ارجنٹینا کو فائدہ ہوا۔
مصر اس وقت مزید مایوس ہوا جب اسی نوعیت کے ایک واقعے میں محمد صلاح پر مبینہ فاؤل کے باوجود وی اے آر نے مداخلت نہیں کی، اور اس کے بعد ارجنٹینا نے فیصلہ کن گول کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وی اے آر کا مقصد شک کم کرنا اور فیصلوں میں یکسانیت لانا تھا، مگر اس میچ میں اس کے استعمال نے مزید تنازع پیدا کر دیا۔
سائمن چیڈوک کے مطابق شائقین اور ناظرین کے لیے بہتر حل یہ ہو سکتا ہے کہ وی اے آر فیصلوں کی وضاحت زیادہ شفاف انداز میں کی جائے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا۔
مصر کی شکست کے بعد ٹیم کے کپتان محمد صلاح اور دیگر کھلاڑی مایوس دکھائی دیے، جبکہ مصری شائقین نے ریفری فیصلوں پر سخت ناراضی ظاہر کی۔
ارجنٹینا اب کوارٹر فائنل میں پہنچ چکا ہے، لیکن مصر کے خلاف اس کی جیت ورلڈ کپ کے سب سے متنازع میچز میں شمار کی جا رہی ہے۔