پاکستان کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے عوامی صحت کے ایک سنگین مسئلے، ٹریکوما (جو مستقل اندھے پن کا باعث بننے والی بیماری ہے) کے خاتمے پر عالمی سطح پر شاندار شناخت حاصل ہوئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے ٹریکوما کے خاتمے کو پاکستان کے صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ اس کامیابی کے اعتراف میں ڈبلیو ایچ او کی جانب سےپاکستان کے وفاقی وزیر صحت، سید مصطفیٰ کمال کو ایک اعزازی سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا، جو انہیں جنیوا میں جاری 78ویں عالمی صحت اسمبلی کے دوران دیا گیا۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم گیبریسوس نے پاکستان میں آنکھ کی اس متعدی بیماری کے خاتمے کے لیے کی گئی قابل قدر کوششوں کو سراہا اور وزیر صحت کو باضابطہ طور پر اس اعترافی سند سے نوازا۔
اس موقع پر وزیر صحت، سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ، یہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے اور قومی سطح پر صحت عامہ کے نظام کے لیے ایک نمایاں کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ، یہ اقدام حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ہر پاکستانی شہری کی بصارت اور فلاح کا تحفظ یقینی بنانا مقصد ہے۔
ٹریکوما ایک بیکٹیریا سے پھیلنے والی آنکھوں کی بیماری ہے، جو اگر بروقت علاج نہ کی جائے تو ناقابل واپسی اندھے پن کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بیماری کا خاتمہ مربوط صحت کی پالیسیوں، کمیونٹی سطح پر کی جانے والی مداخلتوں اور بین الاقوامی اشتراک عمل کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
وزیر صحت نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ، جس طرح پاکستان نے ٹریکوما کو ختم کیا ہے، اسی طرح ملک پولیو کے خلاف بھی مکمل کامیابی حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ، 78ویں عالمی صحت اسمبلی کا اجلاس اس وقت جنیوا میں جاری ہے، جس میں دنیا بھر کے صحت کے شعبے کے رہنما وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری، عالمی سطح پر صحت کی سہولیات کی فراہمی، اور غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ جیسے موضوعات پر غور کر رہے ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق، سید مصطفیٰ کمال اس عالمی فورم پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، اور ان کا اسمبلی سے خطاب بھی متوقع ہے جس میں وہ پاکستان کی عوامی صحت کے میدان میں حاصل کی گئی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی، بالخصوص پولیو کے خاتمے کے حوالے سے، دنیا کے سامنے رکھیں گے۔