برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے ممکنہ چیلنجر اینڈی برنہم کون ہیں؟

برطانیہ میں لیبر پارٹی کے رہنما اور وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کو پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم ان کے ممکنہ چیلنجر کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

اینڈی برنہم نے حال ہی میں شمالی انگلینڈ کے حلقے میکر فیلڈ سے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کامیابی کے بعد وہ دوبارہ برطانوی پارلیمان کا حصہ بن گئے ہیں، جس سے ان کے لیے لیبر پارٹی کی قیادت کو چیلنج کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔

برنہم کو برطانوی میڈیا میں “کنگ آف دی نارتھ” یعنی شمال کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لقب انہیں اس وقت ملا جب انہوں نے کورونا وبا کے دوران لندن میں مرکزی حکومت کے فیصلوں کے خلاف گریٹر مانچسٹر کے لیے زیادہ مالی مدد کا مطالبہ کیا تھا۔

اینڈی برنہم کا تعلق ایک محنت کش گھرانے سے ہے۔ ان کے والد برٹش ٹیلی کام میں انجینئر تھے، جبکہ والدہ میڈیکل ریسپشنسٹ تھیں۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں لیبر پارٹی کی سیاست میں اہم مقام بنایا۔

برنہم ماضی میں برطانوی حکومت میں وزیرِ صحت اور چیف سیکریٹری ٹو دی ٹریژری جیسے اہم عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اس سے پہلے دو بار لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے بھی امیدوار بنے، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔

2017 میں وہ گریٹر مانچسٹر کے میئر منتخب ہوئے اور بعد میں 2021 اور 2024 میں بھی دوبارہ کامیاب ہوئے۔ بطور میئر انہوں نے ٹرانسپورٹ، رہائش، ہنرمندی اور بے گھر افراد کے مسائل پر توجہ دی۔ مانچسٹر میں بس سروسز کو عوامی کنٹرول میں لانے کے منصوبے کو بھی ان کی اہم کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ برنہم لندن کی روایتی سیاسی اشرافیہ سے مختلف نظر آتے ہیں اور شمالی انگلینڈ کے عام لوگوں کی بات کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لیبر پارٹی کے کئی ووٹرز کے لیے ایک مضبوط متبادل سمجھے جا رہے ہیں۔

خارجہ پالیسی کے معاملے میں برنہم کا ریکارڈ ملا جلا ہے۔ وہ نیٹو کی حمایت کرتے ہیں اور برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے پر تنقید کر چکے ہیں۔ فلسطین کے معاملے پر وہ غزہ میں جنگ بندی کے حامی رہے ہیں اور اسرائیلی بستیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، تاہم وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بھی حامی رہے ہیں۔

برنہم کی حالیہ کامیابی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب لیبر پارٹی کو مقامی انتخابات میں خراب کارکردگی اور ریفارم یو کے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا سامنا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ابھی باضابطہ طور پر کیئر اسٹارمر کو چیلنج کرنے کا اعلان نہیں کیا، لیکن ان کی پارلیمان میں واپسی کو برطانوی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق برنہم کی مقبولیت، شمالی انگلینڈ میں ان کی مضبوط شناخت اور لیبر پارٹی کے اندر تبدیلی کی خواہش انہیں آنے والے دنوں میں برطانیہ کی وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ کا اہم نام بنا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں