‘120 کلوگرام 24 قیراط سونے کے دھاگے سے قرآنِ کریم کی آیات کڑھائی کی جاتی ہے’، اسلام کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ کے غلاف ‘کسوہ’ کی تاریخ کیا ہے؟

حج 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی مسلمانوں کی سب سے مقدس عبادت گاہ خانۂ کعبہ ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ لاکھوں عازمینِ حج جب مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے گرد طواف کرتے ہیں تو ان کی نظر جس سیاہ غلاف پر پڑتی ہے، وہ “کسوہ” کہلاتا ہے۔ الجزیرہ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ محض ایک کپڑا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط روحانی، تاریخی اور فنّی روایت کا تسلسل ہے، جو آج بھی ہر سال باقاعدگی سے نئے انداز میں تیار کیا جاتا ہے۔

خانۂ کعبہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے جو مسجد الحرام کے وسط میں واقع ہے۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق یہ وہی پہلا گھر ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا۔ یہ وہی مقام ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان اپنی روزانہ کی پانچ نمازوں میں رخ کرتے ہیں۔ کعبہ کی پیمائش تقریباً 13 میٹر اونچائی، 12.8 میٹر لمبائی اور 11 میٹر چوڑائی ہے۔

کعبہ کے اندرونی حصے کو اگر دیکھا جائے تو وہ سادہ مگر نہایت باوقار ہے۔ اس کے اندر تین لکڑی کے ستون چھت کو سہارا دیتے ہیں، فرش اور دیواریں سنگِ مرمر سے مزین ہیں جبکہ چھت سے لالٹینیں لٹکی ہوئی ہیں۔ کعبہ کے اندر چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی بھی موجود ہے۔ سال میں دو مرتبہ اس کے دروازے کو کھول کر اندرونی حصے کی خصوصی صفائی کی جاتی ہے۔ اندرونی دیواروں پر مختلف ادوار میں لگائے گئے کپڑوں کی تہیں بھی موجود رہی ہیں، جن کے رنگ تاریخی طور پر سرخ، سبز اور گہرے نیلے رہے ہیں۔

کعبہ کو ڈھانپنے والے کپڑے کو “کسوہ” کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا ماخذ عربی زبان کا مادہ ہے جس کا مطلب “ڈھانپنا” یا “لباس پہنانا” ہے۔ وقت کے ساتھ یہ اصطلاح خاص طور پر خانۂ کعبہ کے غلاف کے لیے مخصوص ہو گئی۔ یہ سیاہ ریشمی کپڑا نہ صرف کعبہ کی حفاظت کے لیے ہے بلکہ اس کی عظمت اور خوبصورتی کو بڑھانے کا بھی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق حج کے دوران کسوہ کے نچلے حصے کو عارضی طور پر اوپر کر دیا جاتا ہے تاکہ زیادہ بھیڑ کے باعث اسے نقصان نہ پہنچے۔

کسوہ کی تیاری ایک انتہائی منظم اور پیچیدہ عمل ہے۔ موجودہ دور میں یہ تقریباً 670 کلوگرام خالص ریشم سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس پر تقریباً 120 کلوگرام 24 قیراط سونے کے دھاگے اور 100 سے 120 کلوگرام چاندی کے دھاگے سے قرآنِ کریم کی آیات اور اسلامی خطاطی کی کڑھائی کی جاتی ہے۔ اس کام میں 240 سے زائد ماہر کاریگر شریک ہوتے ہیں اور جدید مشینوں کے ساتھ روایتی ہاتھ سے بنائی گئی تکنیک استعمال کی جاتی ہے۔ اس کی تیاری پر لاکھوں ڈالر کے برابر لاگت آتی ہے۔

کسوہ پر موجود آرائش کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے وسط میں ایک خوبصورت پٹی ہوتی ہے جسے “حزام” کہا جاتا ہے جو کڑھائی سے مزین ہوتی ہے۔ کعبہ کے دروازے کے اوپر ایک خصوصی پردہ لٹکتا ہے جسے “ستارہ” کہا جاتا ہے اور یہ کسوہ کا سب سے زیادہ آرائشی حصہ سمجھا جاتا ہے۔

کسوہ کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق کعبہ کو ڈھانپنے کی روایت اسلام سے قبل بھی موجود تھی۔ ایک روایت یہ ہے کہ یمن کے ایک بادشاہ تُبع اسعد کامل نے تقریباً 400 عیسوی میں پہلی مرتبہ کعبہ کو کپڑے سے ڈھانپا تھا۔ دوسری روایت کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی کعبہ کو غلاف پہنایا تھا، تاہم اس کی حتمی تاریخی تصدیق موجود نہیں۔

ابتدائی ادوار میں کسوہ مختلف ممالک میں تیار ہوتی رہی۔ عباسی دور میں یہ بغداد میں، اموی دور میں دمشق میں، اور فاطمی و مملوکی دور میں مصر میں تیار کی جاتی رہی۔ بعد میں یہ روایت سلطنت عثمانیہ کے ذریعے جاری رہی اور موجودہ دور میں سعودی عرب اس کی تیاری اور نگرانی کرتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کسوہ کے لیے استعمال ہونے والے مواد بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے۔ ابتدا میں یہ کپڑا اون، کپاس اور کتان سے بنایا جاتا تھا، جبکہ بعض تاریخی حوالوں میں جانوروں کی کھال کے استعمال کا بھی ذکر ملتا ہے۔ آج اس میں اعلیٰ معیار کا ریشم استعمال کیا جاتا ہے جو خصوصی طور پر بیرونِ ملک سے منگوایا جاتا ہے۔

کسوہ کی تبدیلی ہر سال باقاعدگی سے کی جاتی ہے۔ پرانا غلاف اتار کر اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے، جبکہ نئے غلاف کو بڑی احتیاط سے کعبہ پر چڑھایا جاتا ہے۔ پرانے کسوہ کے قیمتی حصے، خاص طور پر سونے اور چاندی کی کڑھائی والے حصے، کاٹ کر محفوظ کیے جاتے ہیں اور انہیں عجائب گھروں یا مخصوص اداروں کو تحفے کے طور پر دیا جاتا ہے۔ کچھ حصے سفارتخانوں اور سرکاری شخصیات میں بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔

اس عمل کے بعد باقی کپڑے کے چھوٹے ٹکڑے عام طور پر یادگار کے طور پر رکھ لیے جاتے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات کسوہ کے ٹکڑے نجی سطح پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق آج کے دور میں کسوہ نہ صرف ایک مذہبی علامت ہے بلکہ اسلامی فنِ خطاطی، دستکاری اور تاریخ کا ایک زندہ نمونہ بھی ہے، جو ہر سال مکہ مکرمہ میں ایک نئی روحانی اور ثقافتی جھلک کے ساتھ دنیا کے سامنے آتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں