امریکا کے ایران میں 90 اہداف پر حملے، تہران کی تین خلیجی عرب ریاستوں پر جوابی کارروائی

امریکا نے جمعرات کی صبح ایران پر نئے فضائی حملے کیے، جس کے بعد تہران نے بحرین، کویت اور قطر کو جوابی کارروائی کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ امریکی خبر رساں ادسارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تازہ حملوں نے خلیج فارس میں جاری جنگ بندی کے عارضی معاہدے کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تازہ کارروائی میں ایران کے تقریباً 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے حملوں کی ویڈیوز بھی جاری کیں، جن میں بظاہر ایک ایئرپورٹ رن وے اور میزائل لانچرز کو نشانہ بنتے دکھایا گیا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے کیے گئے، جہاں سے جنگ سے پہلے دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے بوشہر، چاہ بہار، کنارک، بندر عباس اور سیریک سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاع دی۔

ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق دو دن کے امریکی فضائی حملوں میں کم از کم 14 افراد جاں بحق اور 78 زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق جمعرات کے حملوں میں خوزستان صوبے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ایرانشہر میں ایک ایئرپورٹ پر حملے کے دوران ایک فائر فائٹر بھی مارا گیا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں میں مشہد جانے والے راستوں پر موجود پلوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مشہد ہی میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین متوقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران میں دھماکوں کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ جہازوں کو نشانہ بنایا تو صورتحال مزید خراب ہو گی۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ حالیہ ایرانی حملوں کے بعد عارضی جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے، تاہم مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ عارضی معاہدہ اسے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو منظم کرنے کا حق دیتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو سمجھنا چاہیے کہ حملوں اور وعدہ خلافی کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا حملہ کرے گا تو اسے جواب ملے گا۔

رپورٹ کے مطابق بحرین میں کم از کم دو بار سائرن بجائے گئے، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر موجود ہے۔ قطر اور کویت میں بھی حفاظتی الرٹس جاری کیے گئے۔ اب تک بحرین، کویت اور قطر میں ایرانی جوابی کارروائی سے کسی بڑے نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

تازہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خامنہ ای کی آخری رسومات جاری ہیں اور ایران اور امریکا کے درمیان مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات شروع ہونے کی توقع تھی۔ مریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا اور ایران کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق امور پر بات چیت کرنا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں