بنگلہ دیش اور تاجکستان کا جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان علاقائی رابطوں اور تعاون کو فروغ دینے پر زور

بنگلہ دیش اور تاجکستان نے جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان وسیع تر علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ اور علاقائی سفارت کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔

تاجکستان کے نائب وزیر خارجہ ادیبیک قلندر کی بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن سے ملاقات کے دوران یہ اہم اُمور زیر بحث آئے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان پہلی فارن آفس کنسلٹیشن کے بعد ڈھاکا میں وزارتِ خارجہ میں ہوئی۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق، ملاقات میں دونوں جانب سے باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔ فریقین نے جنوبی اور وسطی ایشیا کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ بہتر علاقائی رابطے معاشی مواقع، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دے سکتے ہیں۔

تاجک نائب وزیر خارجہ نے تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں اور دوطرفہ معاہدوں جیسے ادارہ جاتی فریم ورک کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

دونوں ممالک نے تجارت و اقتصادی تعاون، ثقافتی تبادلوں، سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا چھوٹ، سیاحت، دوہرے ٹیکس سے بچاؤ، سرمایہ کاری کے فروغ و تحفظ اور صنعتی تعاون سے متعلق معاہدوں کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے موجودہ دوطرفہ تجارت کو محدود قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت اور کاروباری وفود کے زیادہ تبادلوں کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں ڈھاکا اور دوشنبے میں مستقل سفارتی مشنز کھولنے، براہِ راست فضائی رابطہ شروع کرنے، ویزا طریقہ کار آسان بنانے، عوامی روابط بڑھانے، برآمدی مصنوعات متعارف کرانے اور سامان، خدمات اور ہنرمند افرادی قوت کی آسان نقل و حرکت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں جانب نے تجارت و اقتصادی تعاون سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کو فعال بنانے اور اعلیٰ کاروباری چیمبرز و نجی شعبے کی تنظیموں کے درمیان روابط مضبوط کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے بنگلہ دیش-تاجکستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ قائم کرنے کی تاجکستان کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی صدارت کے لیے بنگلہ دیش کی امیدواری کی حمایت پر تاجکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت علاقائی اور عالمی فورمز پر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

ملاقات کے دوران تاجکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے لیے بنگلہ دیش کی خواہش کا مثبت جواب دیا اور قریبی علاقائی تعاون کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں