یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ضروری لائسنس کی منظوری کے بعد یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کی مقامی پیداوار جلد از جلد شروع کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے چاہئیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق زیلنسکی نے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انقرہ میں ملاقات کے دوران اس معاملے پر منظوری حاصل ہو چکی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق اب اصل چیلنج یہ ہے کہ یوکرین کی تکنیکی ٹیمیں، مختلف وزارتوں کے نمائندے اور حکومتی ادارے فوری طور پر عملی اقدامات شروع کریں تاکہ لائسنس جلد حاصل کیے جا سکیں اور پیداوار یوکرین میں جلد شروع ہو سکے۔
یوکرین کو روسی حملوں سے دفاع کے لیے اتحادی ممالک کی جانب سے پیٹریاٹ میزائل ملتے رہے ہیں، تاہم عالمی سطح پر ان کی دستیابی محدود ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین ان میزائلوں کو امریکا میں تیار ہونے کی رفتار سے زیادہ تیزی سے استعمال کر رہا ہے، جس کے باعث مقامی پیداوار کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
پیٹریاٹ امریکا کا تیار کردہ فضائی دفاعی نظام ہے، جبکہ اس کا PAC-3 انٹرسیپٹر ان چند مغربی ہتھیاروں میں شامل ہے جو روس کی جانب سے یوکرینی شہروں پر فائر کیے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انقرہ میں زیلنسکی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا یوکرین کو پیٹریاٹ بنانے کا لائسنس دے گا۔
زیلنسکی نے نیٹو اجلاس کو یوکرین کے لیے کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکا سے ایک نیا پیکج ملے گا، جبکہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ بھی الگ الگ سمجھوتے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق دنیا میں صرف چند ممالک پیٹریاٹ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور امریکا نے یوکرین کو ایسا ملک تسلیم کیا ہے جو یہ کام کر سکتا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق اب یوکرین اور امریکا کی سفارتی، دفاعی اور تکنیکی ٹیموں کو باقی تفصیلات جلد طے کرنا ہوں گی، کیونکہ جتنی جلدی اتفاق ہو گا، اتنی جلدی پیداوار شروع ہو سکے گی۔
تاہم یوکرین کے وزیر دفاع کے مشیر سرہی بیسکریستنوف نے خبردار کیا ہے کہ پیٹریاٹ نظام کی مقامی پیداوار شروع کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق لائسنس کے ساتھ تکنیکی دستاویزات، ماہرین کی تربیت، سپلائرز سے رابطے اور غیر ملکی مشیروں کی مدد درکار ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اصل رکاوٹ یوکرین کی صلاحیت نہیں بلکہ وقت ہے، کیونکہ کچھ پرزوں کی تیاری کا عمل 12 سے 24 ماہ تک لے سکتا ہے۔
نیٹو اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے “شاندار کام” کیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھنا چاہتے ہیں، اگرچہ ان کے مطابق یہ آسان کام نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق یوکرین کے لیے پیتریاٹ نظام کی مقامی پیداوار دفاعی اعتبار سے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ روسی میزائل حملوں کے مقابلے میں یہ نظام یوکرینی شہروں کے دفاع کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔