چینی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے پہلی بار دوبارہ استعمال کیے جانے والے راکٹ کو کامیابی سے زمین پر اتار لیا ہے۔ اسے چین کے خلائی پروگرام میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کے مطابق لانگ مارچ 10 بی راکٹ جمعے کے روز جنوبی چین کے جزیرے ہائنان سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 15 منٹ پر روانہ کیا گیا۔
راکٹ کے بالائی حصے سے الگ ہونے کے تقریباً چھ منٹ بعد اس کا بوسٹر عمودی انداز میں واپس آیا اور سمندر میں موجود ایک تیرتے ہوئے پلیٹ فارم پر کامیابی سے لینڈ کر گیا۔
یہ تجربہ اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ چین اب دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں کی ٹیکنالوجی میں امریکہ کی برتری کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔ اس سے پہلے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اور ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن بھی ایسے راکٹوں کی کامیاب لینڈنگ کر چکی ہیں۔
عام طور پر راکٹ ایک بار استعمال ہونے والے سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ پرواز کے دوران ان کے مختلف حصے الگ ہو کر ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی مشنز اور سیٹلائٹ لانچنگ پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔
بوسٹرز راکٹ کے سب سے قیمتی حصوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر انہیں دوبارہ استعمال کے قابل بنا لیا جائے تو سیٹلائٹ لانچ کرنے اور خلائی تحقیق کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
دسمبر 2015 میں اسپیس ایکس نے پہلی بار خلائی پرواز سے واپس آنے والے فالکن 9 راکٹ کو کامیابی سے زمین پر اتارا تھا۔ نومبر 2025 میں بلیو اوریجن نے بھی اپنے نیو گلین راکٹ کی کامیاب لینڈنگ کی تھی۔