جو لوگ کم پانی پینے کے عادی ہیں، وہ دباؤ کے ہارمون کورٹیزول کی زیادہ مقدار خارج کرتے ہیں : تحقیقاتی مطالعہ
ایک حالیہ طبی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ پانی کم پیتے ہیں، ان کا جسمانی ردِ عمل دباؤ (stress) کے وقت زیادہ شدید ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جو افراد معمول سے کم پانی پیتے ہیں، وہ زیادہ مقدار میں کورٹیزول ہارمون (جسے دباؤ کا ہارمون کہا جاتا ہے) خارج کرتے ہیں …. حالانکہ انھیں اُن افراد کے مقابلے میں زیادہ پیاس بھی محسوس نہیں ہوتی، جو کافی مقدار میں پانی پیتے ہیں۔
محققین کے مطابق دباؤ کے لمحات میں پانی کی بوتل قریب رکھنا اور باقاعدگی سے پانی پینا طویل مدتی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق برطانوی ایجنسی “PA Media” نے جاری کی۔
تحقیق میں “یونیورسٹی آف لیورپول جون مورز” (LJMU) کے ماہرین نے 32 افراد کو شامل کیا۔ ان میں سے 16 افراد روزانہ ڈیڑھ لیٹر سے کم پانی پیتے تھے، جبکہ دیگر 16 افراد روزانہ باقاعدگی سے تجویز کردہ مقدار میں پانی پیتے تھے۔
یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی (EFSA) کی ہدایات کے مطابق، مردوں کے لیے روزانہ 2.5 لیٹر اور خواتین کے لیے 2 لیٹر پانی پینا ضروری ہے۔
برطانیہ میں “اِیٹ ویل گائیڈ” کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ 6 سے 8 گلاس سیال مادے پینے چاہئیں، جو تقریباً 1.5 سے 2 لیٹر کے برابر ہے۔
البتہ تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ بعض حالات میں لوگوں کو زیادہ پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جیسے گرم موسم میں، زیادہ جسمانی سرگرمی کے دوران، بیماری سے صحت یابی کے دوران یا دورانِ حمل اور دودھ پلانے کے وقت۔