ترکیہ میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی، پارلیمنٹ سے قانون منظور

ترکیہ کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کر دی جائے گی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اس قانون کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات اور نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے جنوبی ترکیہ کے شہر قہرامان مرعش میں ایک 14 سالہ لڑکے نے ایک اسکول میں فائرنگ کر کے نو طلبہ اور ایک استاد کو ہلاک کر دیا تھا۔ حکام کے مطابق حملہ آور کی آن لائن سرگرمیوں کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس کے محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔

نئے قانون کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام لازمی طور پر نافذ کرنے ہوں گے، والدین کے کنٹرول کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی اور نقصان دہ مواد کو فوری ہٹانے کے لیے تیز کارروائی کرنی ہوگی۔

اس قانون کے تحت یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کو 15 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس بنانے سے روکنا ہوگا۔ اس کے علاوہ آن لائن گیمز چلانے والی کمپنیوں کو بھی ترکیہ میں نمائندہ مقرر کرنا ہوگا تاکہ وہ نئے ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکیں۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے اور انٹرنیٹ کی رفتار محدود کرنے جیسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان کو یہ قانون حتمی منظوری کے لیے 15 دن میں دستخط کرنا ہوں گے۔ انہوں نے حالیہ واقعے کے بعد کہا تھا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی اور سماجی نشوونما کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اسے کنٹرول کرنا ضروری ہے۔

تاہم اپوزیشن جماعت نے اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے تحفظ کا حل پابندیاں نہیں بلکہ بہتر اور حقوق پر مبنی پالیسیاں ہیں۔

ترکیہ سے پہلے آسٹریلیا اور انڈونیشیا بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جبکہ اسپین، فرانس اور برطانیہ بھی اس حوالے سے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں