چین کے شہر ہانگژو میں ازبکستان کے لیے ایک نیا تحقیقی مرکز قائم کر دیا گیا ہے، جہاں ملک میں جاری اصلاحات، معاشی و سماجی ترقی اور ان کے نتائج پر علمی و تحقیقی کام کیا جائے گا۔ اس مرکز کے قیام کا مقصد ازبکستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینا اور تحقیق کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
تحقیقی مرکز کا افتتاح وسطی ایشیا کی سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق نویں بین الاقوامی سمپوزیم کے دوران کیا گیا۔ ازبکستان کے مرکز برائے ترقیاتی حکمت عملی نے نئے تحقیقی ادارے کو ملک میں ہونے والی اصلاحات سے متعلق کتابیں، تحقیقی مواد اور تجزیاتی اشاعتیں بھی فراہم کیں۔
اس موقع پر مرکز برائے ترقیاتی حکمت عملی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلڈور تولیاکوف نے ازبکستان میں ڈیجیٹل حکومتی نظام کی ترقی اور چین کے ساتھ تعاون کے امکانات پر ایک پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے سرکاری خدمات کو آن لائن منتقل کرنے، انتظامی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوام کو ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔
ایلڈور تولیاکوف کے مطابق ازبکستان کے سرکاری آن لائن پورٹل my.gov.uz پر دستیاب خدمات کی تعداد 2024 میں 525 تھی، جو اگست 2026 تک بڑھ کر 905 ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے 2024 کے ای گورنمنٹ ڈیولپمنٹ انڈیکس میں ازبکستان 63 ویں نمبر پر تھا۔ حکومت ڈیجیٹل خدمات کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
ازبکستان نے 2030 تک اپنی 90 فیصد سے زائد سرکاری خدمات آن لائن فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ملک کا مقصد الیکٹرانک حکومتی نظام کی ترقی میں دنیا کے 30 نمایاں ممالک میں شامل ہونا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سرکاری اداروں کے ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کے لیے خدمات کے حصول کو زیادہ آسان بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی سمپوزیم کے دوران ازبکستان اور چین کے درمیان ڈیجیٹل شعبے میں مشترکہ منصوبوں کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ ان میں مختلف سرکاری خدمات کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا، ڈیجیٹل سلک روڈ کے تحت دستاویزات کے تبادلے کا نظام بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین کی تربیت شامل ہیں۔
چین میں قائم ہونے والا نیا تحقیقی مرکز ازبکستان کی اصلاحات اور ان کے نتائج پر علمی تحقیق کرے گا۔ اس کے ساتھ سمپوزیم میں پیش کی گئی تجاویز دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سرکاری خدمات اور ماہرین کی تربیت کے شعبوں میں مستقبل کے تعاون کی بنیاد بن سکتی ہیں۔